نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: نظمالوجی

موجِ بخشش و عطا رمضان ہے
ہر طرف رحمت بپا رمضان ہے

ہم کو ہر کشکولِ نیکی میں ملا
اب صلہ ستر گنا؟ رمضان ہے!

۔۔۔ق۔۔۔

رحمتِ حق جوش میں ہے دوستا!
تو بھی چکھ اس کا مزا، رمضان ہے

دیکھنا چاہتی ہے کہ تو ہے بھلا
کس قدرچکنا گھڑا، رمضان ہے

۔۔۔۔۔۔۔

تزکیہء نفس کی روٹی پکا!
فیض کا اُلٹا توا رمضان ہے

لوڈ شیڈنگ جس کی ہو سکتی نہیں
رحمتوں کی وہ ضیا رمضان ہے

پائیے بیماریء روح سے نجات
بہرِ امراضِ ریا رمضان ہے

توند کی تجسیمِ موزوں کے لئے
نسخہء صبر و رضا رمضان ہے

اک ذرا ابلیس سے گچی چھڑا
نفس سے زور آزما رمضان ہے

عاصیوں کی گردنیں بچنی نہ تھیں
شکر ہے کہ اے خدا ،رمضان ہے

Advertisements

سارے لیڈر ٹوٹ بٹوٹ
اور متواتر ٹوٹ بٹوٹ

ایک حصارِ سحر میں قوم
جنتر منتر ٹوٹ بٹوٹ

اب ہے سیاست ایک دھمال
مست قلندر ٹوٹ بٹوٹ

مکر کی آندھی ہے باندی
جھوٹ کا چکر ٹوٹ بٹوٹ

جیسے اکڑ بکڑ ہم
ویسے رہبر ٹوٹ بٹوٹ

بدعنوانی اک دلدل
جس کے اندر ٹوٹ بٹوٹ

گردن گردن اُترے ہیں
اس میں برابر ٹوٹ بٹوٹ

کیچڑستاں سب اعمال
سنگِ مرمر ٹوٹ بٹوٹ

نام کے راجہ، شیخ، میاں
کام کے شودر ٹوٹ بٹوٹ

پانامہ کا جن ظاہر
پھر بھی مچھندر ٹوٹ بٹوٹ

اب تو زہروں زہر ہوئے
اندر باہر ٹوٹ بٹوٹ

دیوارِ گریہ پر بھی
تھاپے گوبر ٹوٹ بٹوٹ

جل دے جاتے ہیں کیسے
ہو کر ازبر ٹوٹ بٹوٹ

ڈھیٹ پنے کی پہنے ہیں
زرہ بکتر ٹوٹ بٹوٹ

’’زندہ باد‘‘ ہوئے پھر سے
نعرے سُن کر ٹوٹ بٹوٹ

ایسی قلابازی کھائیں
لگتے ہیں بندر ٹوٹ بٹوٹ

جن کو اِس دھرتی نے جنا
وہ بھی مہاجر ٹوٹ بٹوٹ

ایک نہالِ آس نہیں
سارے بنجر ٹوٹ بٹوٹ

قوم کی کوئی فکر نہیں
آپ ہیں محور ٹوٹ بٹوٹ

نیوز کا ہرچینل پنڈال
اور زور آور ٹوٹ بٹوٹ

ہر دم نورا کشتی ہے
ہر دم ٹرٹر ٹوٹ بٹوٹ

کون سی لاٹھی سے ہوں گے
تتر بتر ٹوٹ بٹوٹ


وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی


(مکالمہ اور اس کے جواب میں ایک دل ہی دل میں جوابی مکالمہ)

اِس نے کہا وعدہ کرو ”دلداری کروں گی“
اُس نے کہا یہ کاوشِ بیکاری کروں گی

اِس نے کہا سردار قبیلے کا ہے فدوی
اُس نے کہا گھر پر تو میں سرداری کروں گی

اِس نے کہا گھر داری ہے ہر گھر کی ضرورت
اُس نے کہا سکھلانے کی تیاری کروں گی

اِس نے کہا ماں اپنی سمجھنا میری ماں کو
اُس نے کہا میں اس کی اداکاری کروں گی

اِس نے کہا بہنیں ہیں مجھے جان سے پیاری
اُس نے کہا اللہ کو بھی میں پیاری کروں گی

اِس نے کہا اک پیار کی دنیا ہے مرا گھر
اُس نے کہا بس بس یہیں بمباری کروں گی

اِس نے کہا دل پھینک کہا جاتا ہے مجھ کو
اُس نے کہاپھر خود کو میں تاتاری کروں گی

اِس نے کہا یاروں پہ فدا رہتا ہے یہ دل
اُس نے کہا میں دور یہ بیماری کروں گی

اِس نے کہا کہ شوقِ سخن گوئی ہے مجھ کو
اُس نے کہا پھر میں بھی گلوکاری کروں گی


ناکے پر پولیس نے مجھ کو روک لیا
مخبر نے کر دی تھی اطلاع پہلے سے
شہر میں دہشت گردی کا کچھ خطرہ تھا
سو پولیس نے ہر مشکوک کو گھیرا تھا
اور مشکوک تھا مجھ سے بڑھ کر کون بھلا
مشقِ سخن کی خواری سے جو حلیہ تھا
اُس نے مجھ کو جیل سے بھاگا مجرم سا کر رکھا تھا
یوں بھی گزشتہ شب آنکھوں میں کاٹی تھی
سر کے بال تھے ایسے بکھرے بکھرے سے
جیسے کانٹے ہوں سیہہ کے
لالوں لال تھے دیدے
باہر کو نکلے
چہرے پر تھے بارہ بجے
ہینڈ اپ کر کے خوب تلاشی لی پولیس نے پھر میری
مجھ کو سر تا پا الٹایا پلٹایا
اور پھر بالآخر اُن کو
مل ہی گیا تھا میری دہشت گردی کا اک ایویڈینس
میری جیب سے اک سہ غزلے کی صورت


ابے مچھر!
ابے او بے سُرے سنگر!!
تو کس موسیقی کے اُستاد کی اولاد ہے آخر
جو مصروفِ ریاض اس وقت ہے شب کے
مرے کانوں میں گھُس کر پھر
وہی ہے راگنی اب کے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
جلیبی بھی جلائے رکھی ہے شب بھر
مگر یہ مارشل لا ہے عجب انداز کا مالک
نہیں رہتا سویرے تک
صبح جب آنکھ کھُلتی ہے
ہمارے کان پڑتی ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
نہ سیکھے تونے لیڈر سے کوئی مینر
عوام الناس کا جو خون پیتے ہیں
تو یوں پیتے ہیں کہ اُن کو خبر ہونے نہیں پاتی
مگر کم ظرف! تُو کیسا ڈریکولا ہے جذباتی
لہو پیتا ہے انساں کا
تو اس کے کان میں پنجابی فلموں کے ولن کی طرح بڑکیں مارے جاتا ہے
مسلسل کرتا رہتا ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
ترے چاچے کے پُتر
جو کو ڈینگی کہتے ہیں
اس میں بڑا ہی زہر ہوتا ہے
سیاستدان کی صورت
جسے بھی کاٹ لیتا ہے
وہ جانبر ہو نہیں پاتا
مقرر ہیں جو ان پر قابو پانے کو
اُنہیں ڈینگوں سے ہی فرصت نہیں ملتی
دکھاتے پھرتے ہیں زورِ خطابت وہ
چنانچہ اب گلی کوچوں میں جاری ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
مچھر دانی بھی ہم نے تو لگا کر دیکھ لی اکثر
تو دُراندازی سے پھرتا نہیں یکسر
نجانے کیسے گھُس آتا ہے اندر
اور پھر ہم تیرے پیچھے ہمنوا قوال کے بن جاتے ہیں گویا
مگر تو ہے کہ پکڑائی نہیں دیتا
پریشاں کرتا رہتا ہے
اپوزیشن نے جیسے مقتدر حضرات کو کر رکھا ہے پیہم
وہی سُر تان ہے ہر دم
وہی بھِن بھِن


بھلا سر پھٹول اِن کی خاطر ہے کیوں دوستو!
نہیں رینگتی جس کے کانوں میں جُوں دوستو!
یہ سوچو! ارے!!
تمھارے لئے
کبھی یہ لڑے
خدا سے ڈرو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

جو لیڈر ہے ذاتی مفادات کا یار ہے
شکم ہی وہ نقطہ ہے جس کی یہ پُرکار ہے
یوں پل پل پڑیں
جو کھاپے دِکھیں
سبھی ایک ہیں
نہ باہم لڑو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

رہے ہیں سیاسی جماعتوں میں کب فاصلے
سو لیڈر بھی لوٹوں کی صورت لڑھکنے لگے
اِدھر یا اُدھر
یہ جائیں جدھر
لگے اپنا گھر
میاں چھوڑ دو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

کسی بھی ازم سے کسی کو کہاں کام ہے
نظریہ بھلا کون سی چڑیا کا نام ہے
یہ رطلِ گراں
کسی سے یہاں
اُٹھے گا کہاں
اے دیدہ ورو! ۔۔۔۔ اجی بس کرو