نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: نظمالوجی

ہم نے تجھ کو دی تھی عزت
اپنے ووٹ کی ساری طاقت
پلٹا دی تھی وقت کی کایا
سب سے بڑی کرسی پہ بٹھایا
۔۔۔۔۔۔
لیکن اُف تیری بیدردی
اپنے کرتوتوں کی کالک
لےکر ووٹ کے منہ پر مل دی
۔۔۔۔۔۔
ایک ذرا آنے دے الیکشن
ہم بھی اپنے ووٹ کا مکا
تیرے بوتھے پر جڑ دیں گے
تجھ کو ناک آؤٹ کر دیں گے

Advertisements

ٹھانی ہے ہر بار کی صورت دل میں پھر اِس بار
اب نہ دیدہء اغماز کے ہوں گے اور شکار

آخر کب تک اُن کی لاپرواہی کا ہو سوگ
ایک ذرا سی پریت بنے کیوں اپنی جاں کا روگ

پل پل جان نکالیں تو پھر کیونکر ہوں وہ جان
اُن سے ملنے کے ارمان کے پکڑیں گے ہم کان

اپنے آپ سے اُن کی باتیں کرنا بھی موقوف
اپنی ذات کے اندر اُن کا دھرنا بھی موقوف

کرنی نہیں وٹس ایپ پہ اُن کو آئندہ سے کال
اُن کو نہیں ہے پرواہ تو کیوں ٹپکے اپنی رال

اُن کے جلوؤں کے آگے نہ ہرگز ہوں گے ڈھیر
کالج میں مدبھیڑ ہوئی تو منہ ہی لیں گے پھیر

کالے کالے گیسو، مکھن مکھن روپ کو ٹھاہ
اب نہ اُن کو دیکھ کے منہ سے نکلے گی واہ واہ

کبھی کبھی کے اِن خدشوں کی کر دیں گے تائید
اور کسی کا میلہ ہیں وہ اور کسی کی عید

لیکن ہیں بیکار قلعہ بندی کی یہ اشباہ
اتھل پتھل کر دے گی سب اُن کی ایک نگاہ


جس طرف بھی جائیے
محوِ خنداں پائیے
اِن کے فقرے کھائیے
اور بس مسکائیے
ہر طرف تشریف فرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
ہر سیاستدان کا
اب لب و لہجہ ملا
اس مرض میں مبتلا
بھانڈ ہر کوئی بنا
سب کے سب جلسوں میں بن جاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
دفتروں میں بھی کہاں
اب مفر اِن سے میاں
رکھتے ہیں سب ہمرہاں
بھانڈ کا طرزِ بیاں
اب تو اِن سے آپ شرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
نیوز چینل پر ملے
بھانڈ ہر ہر طور کے
اب سیاسی تبصرے
اِن کے ہی ذمے لگے
اب صحافت کو بھی گرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
ان کی باتوں پر چڑیں
تیل جلتی پر دھریں
اور "مچلائیں” اِنہیں
جینا ہی دوبھر کریں
کس قدر فنکاری دکھلاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
بھانڈ ہیں چیزیں دگر
کستے پھرتے ہیں اگر
پھبتیاں ہر شخص پر
خود کو بھی بخشیں کدھر
بھانڈ بن کر خود سے ٹکراتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
لوگ کرتے ہیں بریف
نغزگویانِ ظریف
محفلِ شعری کے تھیف
لاکھ بنتے ہیں شریف
ہر کسی میں یہ بھی کہلاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ


موجِ بخشش و عطا رمضان ہے
ہر طرف رحمت بپا رمضان ہے

ہم کو ہر کشکولِ نیکی میں ملا
اب صلہ ستر گنا؟ رمضان ہے!

۔۔۔ق۔۔۔

رحمتِ حق جوش میں ہے دوستا!
تو بھی چکھ اس کا مزا، رمضان ہے

دیکھنا چاہتی ہے کہ تو ہے بھلا
کس قدرچکنا گھڑا، رمضان ہے

۔۔۔۔۔۔۔

تزکیہء نفس کی روٹی پکا!
فیض کا اُلٹا توا رمضان ہے

لوڈ شیڈنگ جس کی ہو سکتی نہیں
رحمتوں کی وہ ضیا رمضان ہے

پائیے بیماریء روح سے نجات
بہرِ امراضِ ریا رمضان ہے

توند کی تجسیمِ موزوں کے لئے
نسخہء صبر و رضا رمضان ہے

اک ذرا ابلیس سے گچی چھڑا
نفس سے زور آزما رمضان ہے

عاصیوں کی گردنیں بچنی نہ تھیں
شکر ہے کہ اے خدا ،رمضان ہے


سارے لیڈر ٹوٹ بٹوٹ
اور متواتر ٹوٹ بٹوٹ

ایک حصارِ سحر میں قوم
جنتر منتر ٹوٹ بٹوٹ

اب ہے سیاست ایک دھمال
مست قلندر ٹوٹ بٹوٹ

مکر کی آندھی ہے باندی
جھوٹ کا چکر ٹوٹ بٹوٹ

جیسے اکڑ بکڑ ہم
ویسے رہبر ٹوٹ بٹوٹ

بدعنوانی اک دلدل
جس کے اندر ٹوٹ بٹوٹ

گردن گردن اُترے ہیں
اس میں برابر ٹوٹ بٹوٹ

کیچڑستاں سب اعمال
سنگِ مرمر ٹوٹ بٹوٹ

نام کے راجہ، شیخ، میاں
کام کے شودر ٹوٹ بٹوٹ

پانامہ کا جن ظاہر
پھر بھی مچھندر ٹوٹ بٹوٹ

اب تو زہروں زہر ہوئے
اندر باہر ٹوٹ بٹوٹ

دیوارِ گریہ پر بھی
تھاپے گوبر ٹوٹ بٹوٹ

جل دے جاتے ہیں کیسے
ہو کر ازبر ٹوٹ بٹوٹ

ڈھیٹ پنے کی پہنے ہیں
زرہ بکتر ٹوٹ بٹوٹ

’’زندہ باد‘‘ ہوئے پھر سے
نعرے سُن کر ٹوٹ بٹوٹ

ایسی قلابازی کھائیں
لگتے ہیں بندر ٹوٹ بٹوٹ

جن کو اِس دھرتی نے جنا
وہ بھی مہاجر ٹوٹ بٹوٹ

ایک نہالِ آس نہیں
سارے بنجر ٹوٹ بٹوٹ

قوم کی کوئی فکر نہیں
آپ ہیں محور ٹوٹ بٹوٹ

نیوز کا ہرچینل پنڈال
اور زور آور ٹوٹ بٹوٹ

ہر دم نورا کشتی ہے
ہر دم ٹرٹر ٹوٹ بٹوٹ

کون سی لاٹھی سے ہوں گے
تتر بتر ٹوٹ بٹوٹ


وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی


(مکالمہ اور اس کے جواب میں ایک دل ہی دل میں جوابی مکالمہ)

اِس نے کہا وعدہ کرو ”دلداری کروں گی“
اُس نے کہا یہ کاوشِ بیکاری کروں گی

اِس نے کہا سردار قبیلے کا ہے فدوی
اُس نے کہا گھر پر تو میں سرداری کروں گی

اِس نے کہا گھر داری ہے ہر گھر کی ضرورت
اُس نے کہا سکھلانے کی تیاری کروں گی

اِس نے کہا ماں اپنی سمجھنا میری ماں کو
اُس نے کہا میں اس کی اداکاری کروں گی

اِس نے کہا بہنیں ہیں مجھے جان سے پیاری
اُس نے کہا اللہ کو بھی میں پیاری کروں گی

اِس نے کہا اک پیار کی دنیا ہے مرا گھر
اُس نے کہا بس بس یہیں بمباری کروں گی

اِس نے کہا دل پھینک کہا جاتا ہے مجھ کو
اُس نے کہاپھر خود کو میں تاتاری کروں گی

اِس نے کہا یاروں پہ فدا رہتا ہے یہ دل
اُس نے کہا میں دور یہ بیماری کروں گی

اِس نے کہا کہ شوقِ سخن گوئی ہے مجھ کو
اُس نے کہا پھر میں بھی گلوکاری کروں گی