نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: نظمالوجی

وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی


(مکالمہ اور اس کے جواب میں ایک دل ہی دل میں جوابی مکالمہ)

اِس نے کہا وعدہ کرو ”دلداری کروں گی“
اُس نے کہا یہ کاوشِ بیکاری کروں گی

اِس نے کہا سردار قبیلے کا ہے فدوی
اُس نے کہا گھر پر تو میں سرداری کروں گی

اِس نے کہا گھر داری ہے ہر گھر کی ضرورت
اُس نے کہا سکھلانے کی تیاری کروں گی

اِس نے کہا ماں اپنی سمجھنا میری ماں کو
اُس نے کہا میں اس کی اداکاری کروں گی

اِس نے کہا بہنیں ہیں مجھے جان سے پیاری
اُس نے کہا اللہ کو بھی میں پیاری کروں گی

اِس نے کہا اک پیار کی دنیا ہے مرا گھر
اُس نے کہا بس بس یہیں بمباری کروں گی

اِس نے کہا دل پھینک کہا جاتا ہے مجھ کو
اُس نے کہاپھر خود کو میں تاتاری کروں گی

اِس نے کہا یاروں پہ فدا رہتا ہے یہ دل
اُس نے کہا میں دور یہ بیماری کروں گی

اِس نے کہا کہ شوقِ سخن گوئی ہے مجھ کو
اُس نے کہا پھر میں بھی گلوکاری کروں گی


ناکے پر پولیس نے مجھ کو روک لیا
مخبر نے کر دی تھی اطلاع پہلے سے
شہر میں دہشت گردی کا کچھ خطرہ تھا
سو پولیس نے ہر مشکوک کو گھیرا تھا
اور مشکوک تھا مجھ سے بڑھ کر کون بھلا
مشقِ سخن کی خواری سے جو حلیہ تھا
اُس نے مجھ کو جیل سے بھاگا مجرم سا کر رکھا تھا
یوں بھی گزشتہ شب آنکھوں میں کاٹی تھی
سر کے بال تھے ایسے بکھرے بکھرے سے
جیسے کانٹے ہوں سیہہ کے
لالوں لال تھے دیدے
باہر کو نکلے
چہرے پر تھے بارہ بجے
ہینڈ اپ کر کے خوب تلاشی لی پولیس نے پھر میری
مجھ کو سر تا پا الٹایا پلٹایا
اور پھر بالآخر اُن کو
مل ہی گیا تھا میری دہشت گردی کا اک ایویڈینس
میری جیب سے اک سہ غزلے کی صورت


ابے مچھر!
ابے او بے سُرے سنگر!!
تو کس موسیقی کے اُستاد کی اولاد ہے آخر
جو مصروفِ ریاض اس وقت ہے شب کے
مرے کانوں میں گھُس کر پھر
وہی ہے راگنی اب کے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
جلیبی بھی جلائے رکھی ہے شب بھر
مگر یہ مارشل لا ہے عجب انداز کا مالک
نہیں رہتا سویرے تک
صبح جب آنکھ کھُلتی ہے
ہمارے کان پڑتی ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
نہ سیکھے تونے لیڈر سے کوئی مینر
عوام الناس کا جو خون پیتے ہیں
تو یوں پیتے ہیں کہ اُن کو خبر ہونے نہیں پاتی
مگر کم ظرف! تُو کیسا ڈریکولا ہے جذباتی
لہو پیتا ہے انساں کا
تو اس کے کان میں پنجابی فلموں کے ولن کی طرح بڑکیں مارے جاتا ہے
مسلسل کرتا رہتا ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
ترے چاچے کے پُتر
جو کو ڈینگی کہتے ہیں
اس میں بڑا ہی زہر ہوتا ہے
سیاستدان کی صورت
جسے بھی کاٹ لیتا ہے
وہ جانبر ہو نہیں پاتا
مقرر ہیں جو ان پر قابو پانے کو
اُنہیں ڈینگوں سے ہی فرصت نہیں ملتی
دکھاتے پھرتے ہیں زورِ خطابت وہ
چنانچہ اب گلی کوچوں میں جاری ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
مچھر دانی بھی ہم نے تو لگا کر دیکھ لی اکثر
تو دُراندازی سے پھرتا نہیں یکسر
نجانے کیسے گھُس آتا ہے اندر
اور پھر ہم تیرے پیچھے ہمنوا قوال کے بن جاتے ہیں گویا
مگر تو ہے کہ پکڑائی نہیں دیتا
پریشاں کرتا رہتا ہے
اپوزیشن نے جیسے مقتدر حضرات کو کر رکھا ہے پیہم
وہی سُر تان ہے ہر دم
وہی بھِن بھِن


بھلا سر پھٹول اِن کی خاطر ہے کیوں دوستو!
نہیں رینگتی جس کے کانوں میں جُوں دوستو!
یہ سوچو! ارے!!
تمھارے لئے
کبھی یہ لڑے
خدا سے ڈرو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

جو لیڈر ہے ذاتی مفادات کا یار ہے
شکم ہی وہ نقطہ ہے جس کی یہ پُرکار ہے
یوں پل پل پڑیں
جو کھاپے دِکھیں
سبھی ایک ہیں
نہ باہم لڑو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

رہے ہیں سیاسی جماعتوں میں کب فاصلے
سو لیڈر بھی لوٹوں کی صورت لڑھکنے لگے
اِدھر یا اُدھر
یہ جائیں جدھر
لگے اپنا گھر
میاں چھوڑ دو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

کسی بھی ازم سے کسی کو کہاں کام ہے
نظریہ بھلا کون سی چڑیا کا نام ہے
یہ رطلِ گراں
کسی سے یہاں
اُٹھے گا کہاں
اے دیدہ ورو! ۔۔۔۔ اجی بس کرو


ہمارے لیڈرِ قومی کے کیا کہنے
تجوری توند کی بھرتا چلا جاتا ہے جو قومی خزانے سے
فرینڈلی گیم کی خاطر
پلاتا ہے عوام الناس کا خوں بھی سیاسی ڈریکولاؤں کو
مگر پھر جب خزانہ خالی ہو جائے
کوئی قرضہ مکانا ہو
کسی بحران سے اپنی حکومت کو بچانا ہو
تو قربانی کی خاطر وہ
ہماری آپ کی گردن پکڑتا ہے
ہمیں بکرے سمجھتا ہے


موسم کی لغت میں دیکھا ہے
پائی ہے بہاراں اور ہی شے
دھرتی نے پہنا ہے سبزہ
اور چاروں اور دھنک کی مئے

بے برگ شجر کے کیا کہنے
پتوں کے تمغے ہیں پہنے
آسیب تھے ویرانی کے جہاں
پھولوں کے وہاں پر ہیں گہنے

خوش رنگ پرندوں کی ٹولی
گاتی ہے کچھ اپنی بولی
بکھری ہیں خوشی کی چہکاریں
جس جانب کو بھی یہ ہولی

کیا جادہ ہے کیا آنگن ہے
ہر گوشہ رشکِ گلشن ہے
اب جدھر کو اُٹھتی ہیں نظریں
جادوئی حُسن ہے جوبن ہے

جھونکے ہیں صبا کے شوخ بڑے
پھولوں کی باس اُڑا کے چلے
سانسوں میں ہماری اُترے تو
چہرے تا بہ دل کھل اُٹھے

یہ افسانہء ہوش رُبا
موسم کی لغت میں ہی پایا
ہم جن شہروں کے باسی ہیں
اُن میں ہے رُت کا رنگ جدا

شہروں میں بہاراں کے جلوے
انداز جدا ہیں لئے ہوئے
لگتے ہیں رنگوں کے میلے
جب نیٹ کا کنکشن ٹھیک چلے

شہروں کی راہگزاروں پر
پھولوں کے پودے لگتے ہیں
جب فنڈز کو ضائع کرنا ہو
جب ناظم شہروں کے چاہیں

خوش رنگ پرندوں کو اُس دم
پاتے ہیں فضاؤں میں بھی ہم
جب ائر پلوشن ماند پڑے
جب سفوکیشن ہو کم کم

جب سوشل محفل میں جائیں
نسوانی پیکر لہرائیں
سُرخی و غازہ میں لپٹے
جادوئی حُسن کو ہم پائیں

کرتے ہو صبا کی بات، ارے!
یاں سانس بھی ہم لینے سے گئے
ملتی ہیں بہاروں کی خوشیاں
جب بجلی آنکھیں نہ پھیرے

روٹی چھپر کی فکر کبھی
رہنے نہ دے آسودہ بھی
سمجھو کہ بہاراں آتی ہے
جب تنخواہ بڑھتی ہے اپنی