نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: لطیفوں پر منظوم چھاپے

آنے والے نے یہ پوچھا کیا ہوا؟
ہو گیا ویران کیوں گھر آپ کا؟
گھر کا ساماں کیوں نظر ٓتا نہیں؟
کیا کہیں اسٹور میں رکھوا دیا؟

گھر کی بی بی نے کہا، ایسا نہیں اے نقطہ رس !
میری بیٹی کا ہوا ہے عقدپچھلے ہی برس
اب اُسے جس شے کی پڑتی ہے ضرورت گاہ گاہ
وہ اُسے اُٹھوا کے لے جاتی ہے ہن میں کی کراں دس!


پوچھا جو ہم نے ایک گلوکار یار سے
گانا بجانا چھوڑ دیا تم نے کس لئے

اُس نے دیا جواب گلے کے خیال سے
پوچھا کہ کیا تمہارے گلے ہیں بڑھے ہوئے

اُس نے کہا کہ جی نہیں ایسی تو "گل” نہیں
نیبر یہ کہہ رہے تھے”دبا دیں گے ہم اِسے”


پھجے میاں کی ساس بھی
لندن میں جا کر مر گئ

اپنا نہ تھا کوئی وہاں
ہو سکتا جو نوحہ کناں

بات آ گئی غیروں کے سر
سارے تھے یکسر بے خبر

پھجے سے پوچھا تار میں
"فرمائیے ! ہم کیا کریں !!

ہم کو نہیں مطلق پتہ
خاتون کا مسلک ہے کیا

تابوت میں رکھیں انہیں
یا دفن ہم کر دیں انہیں؟

یا پھر کریں نذر چتا؟”
اس کا جوابی تار تھا

خطرہ نہ ہرگز مول لیں
تینوں عمل پورے کریں


چلے تھے شیر کے شکار کے لئے
مگر وہ گیٹ سے پلٹ کر آ گئے
یہ بڑبڑا رہے تھے وہ
پڑوسیوں کو کیا کہیں
سگانِ جانگلوس کو
کھلا ہی چھوڑ دیتے ہیں


ذکر ہے اِک شام کا
دوستوں میں بیٹھ کر
رو رہے تھے جوش جی
اپنی محبوباؤں پر
۔۔۔
اُن کی بیگم آ گئیں
دیکھ کر بولیں ارے
کیا ہوا ہے آپ کو
رو رہے ہیں کس لئے
۔۔۔
اِس پہ بولے جوش جی
کچھ نہیں جانانِ جاں
یونہی اِک پل کو مجھے
آ گئی تھی یاد ماں


ماہرِ نفسیات نے پوچھا
یہ بتائیں کہ آپ کا بیٹا

اپنے ماحول میں کہیں خود کو
غیر محفوظ تو نہیں لگتا

اِس پہ خاتون نے کہا یہ تو
میں نہیں جانتی ہاں البتہ

میرا اپنا مشاہدہ یہ ہے
جہاں موجود ہو مرا بیٹا

وہاں موجود دوسرے بچے
کبھی محفوظ رہ نہیں سکتے


بیوی بولی
طنز و طعن کا مرکز کاہے کو عورت ہے
پاگل خانوں میں تو مردوں کی کثرت ہے

شوہر بولا
اِس سے ظاہر ہو جاتا ہے
کون کسے پاگل کرتا ہے