نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: شگفتگو

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا
کب سے ہے فریزر میں جمایا ہوا بکرا

کیوں سینگوں پہ رکھا ہے مجھے بیچ سڑک پر
کیا جانئیے کس بات پہ ’’اوکھا‘‘ ہوا بکرا

آجائے گا قربانی کے بھی کام یقیناً
سیلفی کے لئے خاص خریدا ہوا بکرا

دیدار کو آیا ہے یا دیدار کرانے
پنکی کے لئے پنک سا رنگاہوا بکرا

لیڈر بھی مقلد نہیں یوں ’’میں میں ازم‘‘ کا
قربانی کے دن بھی کہاں چُپکا ہوا بکرا

کیا جانئیے کس کس کے مقدر میں لکھا ہے
تکوں میں کبابوں میں بکھیرا ہوا بکرا

قربانی محلے میں تو دی ہوتی ہے سب نے
مل سکتا ہے واپس بھی یوں بانٹا ہوا بکرا

اب مالی پوزیشن ہی کچھ ایسی ہے کہ اس سے
لے سکتے ہیں کاغذ پہ بنایا ہوا بکرا

ڈھو پائے گا مجھ کو، میرے اعمال کو کیسے
واقف نہیں جنت کو سدھارا ہوا بکرا

Advertisements

میرے پلے نہ پڑی تیری ادا عید کے دن
تو نے مس کال میں کیا مجھ کو کہا عید کے دن

تیرے گھر سے بھی میں ہو آیا میانِ شیخاں
گھوریاں ڈالے رہا تیرا پپا عید کے دن

حُسن جلوؤں کے کئی رنگ لئے آیا تھا
دلِ ٹھرکی میرے ہاتھوں سے گیا عید کے دن

تنگ کتنوں کو کیا، جب بھی پہن کر آیا
جامہء تنگ کوئی جانِ حیا عید کے دن

کتنے شبہات سرِ دیدہء زوجہ دیکھے
جب بصد شوق میں تیار ہوا عید کے دن

تیرے شاعر کی وہیں چیخ نکلتے دیکھی
روزہ خوروں سے جہاں عید ملا عید کے دن

لوٹ لیتے تیرے بچے بھی بنامِ عیدی
میں نہ بن جاتا اگر چکنا گھڑاعید کے دن

وہ غرارے میں تھی سو میں نے بھی تہمد پہنا
یونیفارم ایک محبت کا رہاعید کے دن

نفسِ امارہ کا روزہ سرِ رمضان رہا
سب نے دل کھول کے افطار کیاعید کے دن

لے اُڑا جوتی مری کوئی بطورِ عیدی
برہنہ پاؤں میں مسجد سے چلاعید کے دن

دورِ پیزا کی ہے یہ پود، بھلا کیا جانے
کیسا لگتا ہے سویوں کا مزاعید کے دن


دل کو خوش آتے ہیں تیرے سبھی ’’ورژن‘‘، ساون
ہرتمنا ہے ترے ’’میلے کی شوقن ‘‘ساون

آنسہ باراں کا مُجرا ہے کہ رُکتا ہی نہیں
کب سے جاری ہے مسلسل یہ چھنا چھن ساون

ایک پل کے لئے بھی سانس کہاں لیتے ہو!
کام پر جیسے لگی ہو کوئی دھوبن ساون

اِس قدر دھوم دھڑکا ہے فقط جاب تری
سال میں ویسے مہینے تو ہیں درجن ساون

صاف کر دیتا ہے’’ بوتھا‘‘ تو ہراِک منظر کا
تیرے ہاتھوں میں ہے شائد کوئی جھاڑن ساون

لوگ اک دوجے کے قدموں میں گرے پڑتے ہیں
جا بجا جا کے بچھا آیا ہے پھسلن ساون

کس حسینہ کی اُڑا لایا ہے یہ قوسِ قزح
تان لی ہےسرِ افلاک جو چلمن ،ساون!

حُسنِ میک اپ زدہ سچائی کی بارش سے بچے
آن کی آن میں دھو دیتا ہے روغن ساون

تیری بجلی میرے چھپر پہ کڑکتی کیوں ہے
یہ نہیں ہے کوئی غالبؔ کا نشیمن، ساون!

کرتے پھرتے ہیں یہ سورج سے بھی غنڈہ گردی
ابر آوارہ ہوئے ہیں تیرے کارن ساون!

جھونپڑے سب کے بہا لے گئے نالے تیرے
کتنا اوباش ہے توبہ! تیرا جوبن ساون


خفا ہیں یاروں پہ کیوں فوقیت نہیں ہوتی
وہ جن کی گھر بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی

جو منچلے ہیں کہاں مانتے ہیں عقل کی بات
کسی شمار میں یہ اقلیت نہیں ہوتی

جو گفتگو میں سیاست کا تذکرہ آئے
کسی بھی بات میں معقولیت نہیں ہوتی

بس ایک جاب ہے لیلیٰ کی ناز برداری
کچھ اور قیس کی مصروفیت نہیں ہوتی

میں گھر میں ہوں تو عبث ہے یہ پرسشِ احوال
میں ہوں وہاں کہ جہاں خیریت نہیں ہوتی

ہزار دل سے کریں روئتِ ہلال کا کام
جو تاڑؤں میں ہے وہ محویت نہیں ہوتی

یوں حق پرستی کا اظہار بھی ہے اپنی جگہ
مگر جو بات غلط ہے "غلت” نہیں ہوتی

میں خاک دل کی عدالت سے سرخرو نکلوں
مرے جنون میں "عمرانیت” نہیں ہوتی

عجب عجب کہ بلاتے ہیں عقد پر سب کو
غضب غضب کہ کوئی تعزیت نہیں ہوتی

جہاں بھی جاؤ گے عالم میں پاؤ گے اس کو
کسی چغد کی کوئی قومیت نہیں ہوتی

ظفر یوں ہجر کی ہر بیوگی کلام میں ہے
جو ہونی چاہیئے وہ شعریت نہیں ہوتی


میں کیا کرتا تکرار کہ تھی مؤنث
گوارہ رہی’’ ہار‘‘ کہ تھی مؤنث

عدالت میں پیش ہو سکا نہ مرا دل
وہ تھی خوں کی حقدار کہ تھی مؤنث

میں خرگوش رُو ’’کچھوا ‘‘بن کر تھا پیچھے
تھی کم اُس کی رفتار کہ تھی مؤنث

وہ تھی بس یونہی سی مگر پھر بھی ہر سو
تھی بھونڈوں کی بھرمارکہ تھی مؤنث

اِدھر شیو میں گم شدہ میرا چہرہ
واں ’’میک اپ‘‘ کے انوار کہ تھی مؤنث

اُسے تاڑمیں رکھنا دشوار تر تھا
یوں چوکس تھا ریڈار کہ تھی مؤنث

میں چاہتا تھا اِس عید پر تگڑا بکرا
اُسے ’’پنک‘‘ درکار کہ تھی مؤنث

وہ کالج میں تھی تو ہراک نوجواں کا
روا اُس سے تھا پیارکہ تھی مؤنث

وہ پھولوں بھری رہگزر کی طرح تھی
مگرکب تھی ہموار کہ تھی مؤنث

ظفر ترکِ الفت سے ہیں ’’ستاں خیراں‘‘
اُسی سے تھے اشرار کہ تھی مؤنث


ہر بات پر ہے ہر کوئی گو مائلِ بحث
یہ اور بات کچھ بھی نہیں حاصلِ بحث

کچھ بھی بتا نہ پایا کہ جو بات کی گئی
سر کو کھجاتا رہ گیا ہر ناقلِ بحث

اُس پر بھی عاقلوں میں ہیں گھنٹوں کے معرکے
وہ بات جو سرے سے نہ تھی قابلِ بحث

زور آوروں نے پسٹل جو ٹیبل پہ دھر دیا
آسانی سے نمٹ گئی ہر مشکلِ بحث

جو ’’تُک‘‘ کی ہانکتے تھے ،فقط منمناتے تھے
شورش بپا رہا ہے بہت جاہلِ بحث

محفل میں میری ذات تھی موضوعِ گفتگو
مجھ کو بھی کاش کرتا کوئی شاملِ بحث

بے اختیارپھونکیں کوئی مارنے لگا
آئی ہمارے سامنے جب مشعلِ بحث

باہرسے کوئی بم نہیں آیا تھا بزم میں
ہر اک شریکِ بحث رہا قاتلِ بحث

اینکر تو ٹاک شو زمیں شمشیر زن رہے
چینل کے ناظرین ہوئے بسملِ بحث

جس بات سے گریز کی تجویز تھی ظفر
وہ بات بھی رہی ہے بہت داخلِ بحث


جب عقد کے پھندے میں ہوں مقدور یقیناً
ہر لڑکی نے آنا ہے نظر حور یقیناً

جو پوز کیا کرتا ہے خود کو کوئی ہیرو
اوروں کو نظر آتا ہے لنگور یقیناً

مجھ کو بھی محبت میں بہت پینجا گیا ہے
ویسے تو میاں مجنوں ہیں مشہور یقیناً

تکرارمیں باتوں سےتو جی سیر نہ ہو گا
گھونسہ ہی جواب اس کا ہے بھرپور یقیناً

دفتر میں جو چنگیز بنے پھرتے ہیں اکثر
گھر پر اُنہیں دیکھا گیا مقہور یقیناً

کیوں ازرہِ اخلاق اُنہیں جھک کے ملے تھے
ہونا ہی تھا اُس شوخ نے مغرور یقیناً

پاتا ہوں عطا اللہ کے گانوں کی سزا میں
ہوتا ہوں میں جب بھی کبھی رنجور یقیناً

اب ذکر سیاست پہ یہی ذہن میں آئے
دولت کی دُھلائی کا ہے مذکور یقیناً

مل جاتی ہے شاعر کو بھی اب داد سخن کی
پا لیتا ہے اجرت تیرا مزدور یقیناً