نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: ریزگاری

کیسے قبضہ نہیں دیتی ہے شبانہ دل کا
کیوں اُڑنچھو ہے بھلا لے کے بیعانہ دل کا

مشورہ عقل کا مانا نہیں یہ جان کے بھی
احمقانہ ہے ہمیشہ سے قیانہ دل کا

دیکھتے دیکھتے ہو جاتی ہے ہر نیوز بریک
راز چھپتا ہے کہاں کوئی زنانہ دل کا

سب گرفتارِ وفا ہو کے یہیں آتے ہیں
حُسن والوں کو کھلا رہتا ہے تھانہ دل کا

اُن کو کانا تو کہا جا نہیں سکتا ہرگز
میچ کر آنکھ جو لیتے ہیں نشانہ دل کا

چاند چہرے پہ دوپٹے کا ہے ڈھاٹا، دیکھو
کوئی آیا ہے چرانے کو خزانہ دل کا

کیوں تری یاد دسمبر میں رلاتی ہے مجھے
اِتنا آساں نہیں جاڑے میں نہانا دل کا

سرجری صبر سے روزانہ میں کرواتا ہوں
لوگ فالودہ بنا تے ہیں روزانہ دل کا

ساتھ میں چاہیئے دولت کی بھی میٹھی چٹنی
ہے تو مرغوب اُنہیں کھنڈ مکھانہ دل کا

تیرے ہونٹوں پہ وہی ”دُور دفع“ کے فقرے
تیری آنکھوں پہ وہی شعر سُنانا دل کا