نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: جیسے کو تیسا

(صوفی غلام مصطفٰی تبسم کی غزل کی پیروڈی )

وہ مجھ سے ہوئے ہمکلام اللہ اللہ
کہاں میں کہاں ٹنڈو جام اللہ اللہ

یہ بچوں کی چوں چوں ‘ یہ بیگم کی چاں چاں
یہ ہنگامۀ صبح و شام اللہ اللہ

یہ حلوے کی تابانیوں کا تسلسل
یہ ذوقِ شکم کا دوام اللہ اللہ

وہ جھینپا ہوا اِک میاں کا تبسم
وہ گھر میں کسی کے دھڑام اللہ اللہ

مرا گھر ‘ مری سیلری مختصر سی
وہ سسرال کا اژدھام اللہ اللہ

وہ بزمِ سخن میں ٹماٹر کی بارش
ظفر کا وہ لطفِ کلام اللہ اللہ


(مرحوم قتیل شفائی کی غزل کی پیروڈی)

اپنے نوٹوں کی ہواؤں میں ا ُڑا لے مجھ کو
میں ہوں لوٹا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

میں محرر ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں جو افسر ہوں تو پپا سے ملا لے مجھ کو

میں کھلی بوری میں رکھا ہوا گُڑ ہوں پیارے
پاؤ دو پاؤ کبھی تو بھی منگا لے مجھ کو

ایک دو نوٹ ادا کر کبھی میری خاطر
تُو کبھی کال تو کر بھولنے وا لے مجھ کو

مجھ سے تُو پوچھ رہا ہے کہ کرپشن کیا ہے
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈا لے مجھ کو

تُو نے دیکھا نہ کبھی توند سے آگے کچھ بھی
ڈرتا رہتا ہوں کسی روز نہ کھا لے مجھ کو

لاکھ دو لاکھ ہیں کیا بینک ہی کھا جاؤں ظفرؔ
شرط یہ ہے کوئی تھانے سے بچا لے مجھ کو


(پروین شاکر مرحومہ کی غزل کی پیروڈی )

ٹوٹے کسی کی نیند ، مگر تم کو اِس سے کیا
کرتے رہو خراٹے نشر ، تم کو اِس سے کیا

تم روز روز سینڈل بکف گھومتی رہو
پھٹ جائے میرے یار کا سر ، تم کو اِس سے کیا

تم کو مری سوات کی سیروں سے ہے غرض
پنڈی میں جی نہ پائے بشر ، تم کو اِس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو ، مجھے ٹھینگے پر دھرو
میں چوز کر لوں کوئی سسر ، تم کو اِس سے کیا

تم نے تو بیڈروم میں اے سی لگا لئے
چٹخے ہماری ٹنڈ ظفر ، تم کو اِس سے کیا


( ناصر کاظمی مرحوم کی غزل کی پیروڈی )

نئے کپڑے بدل کر دندناؤں اور بال بناؤں مس کے لئے
جب کالج جانے کو نکلے ، کالج تک جاؤں مس کے لئے

وہ چانس پہ تھی تو اُس کے لئے اوروں کی بھی ٹی سی کرتے تھے
اب ایسے ویسے لوگوں کو کیوں باپ بناؤں مس کے لئے

جس روپ کا دل پہ جادو تھا وہ دھوپ میں آ کر بہہ نکلا
بے میک اپ چہرہ دیکھ لیا ، اب کیا للچاؤں مس کے لئے

وعدوں کا تو میں قائل ہی نہیں ، جو آ جائے وہ کل ہی نہیں
الو تو نہیں ہوں میں پھر بھی الو بن جاؤں مس کے لئے

ملتان سدھاری تو پھر کیا ، آباد ہے دنیا کا میلہ
موجود ہیں کتنے اورحسیں ، کیوں روگ لگاؤں مس کے لئے