نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: جیسے کو تیسا

(امجد اسلام امجد کی نظم "تم” کی پیروڈی)

تم جس شو میں آن کے چمکو
اس کا رنگ الگ
جس لیڈر کی بولی بولو
اس کا ڈھنگ الگ

جس مخلوق کو فول بناؤ
وہ ووٹر کہلائے
جس کرسی پر انگلی رکھ دو
خود تشریف کو آئے


(احمد فراز کی غزل کی پیروڈی)

ہم سے بگڑ کے وہ بھی مقدر کے ہو گئے
جس گھر سے رشتہ آیا اُسی گھر کے ہو گئے

پھر یُوں ہوا کہ میم سے رشتہ بنا لیا
دیکھا گرین کارڈ تو باہر کے ہو گئے

جانے مرا عشاق میں نمبر ہو کون سا
اِس دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے

رشوت نے بابوؤں کا مقدر جگا دیا
اکثر گریڈ بیس کی ٹکر کے ہو گئے

کہتے تھے صیدِ کاکل و گیسو ہیں بیوقوف
پھر رفتہ رفتہ خود اُسی "گھنگھر” کے ہو گئے

یُوں نہ ہمیں شکار کرے ہر نظر کہ ہم
زیبا کے ہو گئے کبھی کوثر کے ہو گئے

روتے ہو اک فریدہء جاں آفریدہ کو
دیکھو تو کتنے گال چقندر کے ہو گئے


جگر مراد آبادی مرحوم کی غزل کی پیروڈی

شادی رقیب نال وہ فرما کے رہ گئے
عاشق ترے مکان تک آ آ کے رہ گئے

پہلے تو عرض قرض پر جھنجھلا کے رہ گئے
پھر کچھ سمجھ کے سوچ کے ڈکرا کے رہ گئے

وہ کون ہے جو بلو کے گھر تک پہنچ سکا
جیلوں میں نوجوان نظر آ کے رہ گئے

نغموں پہ میرے اور تو کچھ بھی نہ کہہ سکے
سینڈل کی سمت ہاتھ وہ لے جا کے رہ گئے

ہر سانس انتقام محبت ہے اے ظفر
دلہا بنا کے جیتے جی دفنا کے رہ گئے


پروین شاکر کی ایک نظم کی پیروڈی

کتنی دیر تک
املتاس کے پیڑ کے نیچے
بیٹھ کر بونگیاں ماری تھیں
کچھ یاد نہیں
بس اتنا اندازہ ہے
تیرا ابا پشت سے ہو کر
گچی تک آ پہنچا تھا


(احمد فراز مرحوم کی ایک معروف غزل کی پیروڈی )

یوں ڈھیٹ اور زیادہ کہیں نہ ہو جائیں
سو بِن بلائے کی دعوت سےاب چلو جائیں

کہاں ہیں صید کہ جو فائلوں کے پیچھے تھے
کوئی پکارو کہ ہم بھی کسی کو چو جائیں

جہاز سر سے گزرنے تھے وہ تو گزریں گے
مگر یہ آپ کو کھنگ کیوں ہے‘ آپ تو جائیں

الجھنا ہے ترے سودائیوں نے شادی میں
یہ سادہ لوح بھی پاگل کہیں نہ ہو جائیں

ہماری بیوی کو بابل کی یاد آئی ہے
چلو کہ مقتل سسرال دوستو جائیں

یہ گھر کی کُنڈی تو کھلتی نظر نہیں آتی
یہیں تھڑے پہ ہی آؤ نوید سو جائیں


(شباب کیرانوی مرحوم کی ایک معروف غزل کی پیروڈی )

اللہ تری شان یہ اپنوں کی ادا ہے
ہوٹل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

مرنا ہی مقدر ہے تو شادی کی سزا کیوں؟
کس جرم کی نادان سزا کاٹ رہا ہے

ہر چند کہ اک قصہء تازہ ہے مری ساس
بوتھے پہ مگر آج ہی چانٹا سا پڑا ہے

دھننے کی ہے ترکیب لبِ نہر بُلا کر
سالا یہ سمجھتا ہے وہی جیسے خدا ہے

اس طرح تو سسرال بھی ٹھینگے پہ دھرے گا
چہرے سے ہی مسکین نظر آنے لگا ہے

کہتے ہو جسے دوست بچو اُس کے کرم سے
ہر روز نیا قرض وہ ٹھگنے پہ تُلا ہے

آداب بجا لاتے تھے ہم مل کے‘ ہوا کیا؟
کیوں موڈ ترے ویر کا امریکا بنا ہے


(علامہ اقبال کی شہرۀ آفاق نظم ” ایک پہاڑ اور گلہری “ کی پیروڈی)

کوئی گنوار یہ کہتا تھا اِک سپاہی سے
تجھے ہو شرم تو یوں نہ اکڑ کے بات کرے

ذرا سا عہدہ ہے اِس پر غرور ، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا کہنا

خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھا
تو کیا سمجھ کے مجھے بدتمیز بن بیٹھا

تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
تجھ ایسے باندھ کے رکھتا ہوں تھان کے آگے

جو بات مجھ میں ہے تجھ کو بھلا نصیب کہاں
میں چوہدری کہاں ، تو عام سا غریب کہاں

کہا یہ سن کے سپاہی نے منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے اِنہیں نکال ذرا

میں چوہدری نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو مجھ جیسا بادشاہ بندہ

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
جو میں پلس میں ہوں تو یہ بھی اُس کی حکمت ہے

بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اُس نے
مجھے بھی تجھ سے نمٹنا سکھا دیا اُس نے

قدم اُٹھانے کی ہمت نہیں ذرا تجھ میں
جو میں نہ چاہوں تو جرات نہیں ذرا تجھ میں

یوں اپنی مونچھ کے کنڈل سے نہ ڈرا مجھ کو
اِس اپنے چھکڑے کا لیسینس تو دکھا مجھ کو

اگر نہیں ہے تو کر چھیتی مک مکانے میں
کوئی بڑا نہیں رہتا ہے ورنہ تھانے میں