نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: اڑنگیاں

(ذیل کے اشعار کا ہر دوسرا مصرع میر درد کی غزلیات سے اغوا کیا گیا ہے)

میں اس طرف ہوں ۔۔۔۔۔۔  نیچے؛ یہاں دیکھ لے ذرا
"پھرتا ہے کس تلاش میں یہ، آسماں ہنوز”

منسٹر ہوں فقط جمہوریت کے واسطے ورنہ
"نہ مطلب ہے گدائی سے، نہ یہ خواہش کہ شاہی ہو”

اب مرے ہمسائے میں رونق جما
"بس ہجوم یاس! جی گھبرا گیا”

چاپلوسی اگر نہیں سیکھی
"بے ہنر! تو نے کچھ ہنر نہ کیا”

فکر نہیں کسی کو بھی آج ہماری توند کی
"دیکھئے جس کو یاں، اُسے اور ہی کچھ دماغ ہے”

سلمٰی ہے پاس میرے ہما ہے نہ صائمہ
"اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے”

سپلائی والا پانی ذرا آنے دو ظفر
"دامن نچوڑ دیں – تو فرشتے وضو کریں”

نہیں کہتا کوے کو عالم سیاہ
"فقط ایک دل ہے کہ آگاہ ہے”

پُلس کو کیا خبر وقوعے کی
"نہ ہوا ہو گا، یا ہوا ہو گا”

کچھ حسیناؤں پہ مر جانے کے بعد
"ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے”

منعک ہے جو بیماربصارت کی وجہ سے
"اس چشم سے کہہ دینا کہ بیمار ہوں تیرا”


(ذیل کے اشعار کا ہر دوسرا مصرع سعید قیس کی غزلیات سے اغوا کیا گیا ہے)

اُن کی دو پسلیوں کی بات کریں
"حُسن کے ذاویوں کی بات کریں”

لوڈ شیڈنگ ہے کس کی نیت میں
"روشنی کو پتہ نہیں ہوتا”

پھر الیکشن کے ترانے سائیں
"پھر وہی روگ پرانے سائیں”

لوڈ شیڈنگ کے زمانے میں تو گپ لگتی ہے
"روشنی مجھ کو بلانے مرے گھر تک آئی”

کسے گمان ہے سسرالیوں کے بارے میں
"نہ جانے کب کوئی کس راستے سے آ جائے”

بتائیں خودکشانِ حسن ہم کو
"ہمارے جسم کا ملبہ کہاں ہے”

جس کو مس کرتا ہوں اُس مس کی ہے
"ایک تصویر مرے بستے میں”

پچھلی پھینٹی کس کے دھیان میں رہتی ہے
"اک خواہش تو ہر انسان میں رہتی ہے”

یہ جان سکتے نہیں بیسویں گریڈڈ بھی
"فقیر جس قدر آسودگی سے جیتے ہیں”

یونہی منہ پھاڑنے سے کیا حاصل
"کوئی پوچھے تو ہم بتائیں بھی”

اُس کی تاڑ میں منہ کیا کھلا کہ فورا” موقع پا کر
"اک دروازہ میرے دل کے اندر آن کھلا تھا”

اپنا چشمہ تو کھو چکا ہے ظفرؔ
"کس کی آنکھوں سے خواب دیکھیں ہم”