نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری غزلیں

تیرے میرے درمیاں وابستگی کا اک سوال
اُٹھ رہا ہے تو کروں کیا دلبری کا اک سوال

بن نہیں پایا فراتِ عصر سے کوئی جواب
ریت پر لکھا ہوا تھا تشنگی کا اک سوال

منظروں پر راستے چپکا کے اکثر جابجا
مجھ کو بھٹکاتا رہا ہے آگہی کا اک سوال

وہ تو اپنے غم کا بھی پرچہ تھمانے لگ گئے
مجھ سے حل ہوتا نہیں ہے زندگی کا اک سوال

کیوں عبث کرتا ہوں جادہ ناشناساؤں سے میں
سیدھے رستے پر کسی کی کمرہی کا اک سوال

خود کو تج کر میں نے سب کی آرزؤیں پوری کیں
اور جب میں نے کیا اپنی خوشی کا اک سوال

کب سے ہے قلب و نظر میں تیرگی کا زنگ سا
کتنی صدیوں سے ہے میرا روشنی کا اک سوال

کوئی سنتا ہی نہیں ہے سر پٹختی التجا
شور کب سے کر رہا ہے خامشی کا اک سوال

یوں تو وہ جا بھی چکا لیکن درودیوار پر
کر گیا چسپاں نگاہِ آخری کا اک سوال

بھید سارے کھل گئے تھے دیکھتے ہی دیکھتے
اُن کی آنکھوں سے کیا تھا بیخودی کا اک سوال

Advertisements

میرا جیون ہے خود میری کہانی سے بھی آگے کا
فسانہ ہوں حیاتِ جاودانی سے بھی آگے کا

زمیں کی قید سے اب تک رہائی مل نہیں پائی
سفر رکھا ہے سقفِ آسمانی سے بھی آگے کا

نہ جانے کیا ہوا کہ پھرکوئی بسنے نہیں پایا
یہ دل ہے اک مکاں تیری نشانی سے بھی آگے کا

کسی کی موت بھی متروک کر سکتی نہیں اِس کو
محبت سلسلہ ہے زندگانی سے بھی آگے کا

خموشی کی زباں کا ترجمہ بھی ہو رہا ہوتا
اگر ابلاغ ہوتا ترجمانی سے بھی آگے کا

بہت سے قرض ہیں اندوہِ انسانی کے بھی تم پر
کبھی سوچا کرو سوزِ نہانی سے بھی آگے کا

تمھاری کال آ تی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں
نشہ رہتا ہے شامِ ارغوانی سے بھی آگے کا

پروں میں باندھ رکھی ہے مسافت خود کو پانے کی
ارادہ ہے فلک کی میہمانی سے بھی آگے کا

ظفرؔ حدِ نظر تک کی بصارت کا فسوں توڑو
تمھیں تو سوچنا ہے لامکانی سے بھی آگے کا


ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے
لہو میں گھل کے بھی وہ ذائقہ نہیں دیں گے

ہماری خبروں میں ہر روز آئیں گے ظالم
بنیں گے سرخی مگر حاشیہ نہیں دیں گے

تعلقات کو یکسر ہی توڑ ڈالیں گے
ہمیں تو شک کا بھی وہ فائدہ نہیں دیں گے

تمھاری خوشبو بھٹکنے نہ دے گی ہم کو کبھی
یہ راستے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں دیں گے

لہو میں جیسے بھنور بن گئے ہوں ہجر کے غم
مفر کو اور کوئی مسئلہ نہیں دیں گے

گزرتے جاتے ہیں چپ چاپ ابر کے ٹکڑے
یہ میری پیاس کو کیا حوصلہ نہیں دیں گے؟

وہ مشکلات میں رکھیں گے مبتلا ہم کو
سفر تو دیں گے مگر راستہ نہیں دیں گے

ترے خیال کے منظر کا حصہ بن کے بھی
سکوتِ شب کو نیا زمزمہ نہیں دیں گے

ہم اپنی قبر میں کر دیں گے دفن خود کو ظفرؔ
کسی کے ہاتھ میں اب تعزیہ نہیں دیں گے


نظروں میں نہ آئے دل کی ٹوٹ پھوٹ، شکریہ
مسکراتے چہرے کے سفید جھوٹ، شکریہ

راستوں سے اپنے سب نقوشِ پا سمیٹ لو
میں بنا رہا ہوں آپ اپنا روٹ شکریہ

کیا خبر وہ ڈال آیا کس کے گھر میں کتنی چُپ
کہہ رہے ہیں جس کو دیکھ کر سلوٹ، شکریہ

میرے ہی بدن کو چکنا چور کر دیا، ارے!
مجھ کو ہی سمجھ رہے تھے تم اٹُوٹ، شکریہ

مدتوں سے مجھ پہ غفلتوں کی خاک ہے مگر
میرے بارے میں ہی ہو رہی ہے مُوٹ، شکریہ

بارہا دلیلیں لاجواب ہو کے رہ گئیں
میری خامشی نے کر دیا ہے ہوٹ، شکریہ

پھر مری نگاہیں چل پڑی ہیں تیرے ساتھ ساتھ
پھر پہن کے آ گئی ہو کالا سوٹ، شکریہ

۔۔۔۔۔ ق ۔۔۔۔۔
تیری مقناطیسیت نے کھینچ ہی لیا اے دل
آن پہنچا عشق کا وہ رنگروٹ، شکریہ

عمرِ بد لحاظ! تونے کر ہی ڈالی آخرش
زندگی کے ساتھ میری سیلفی شوٹ، شکریہ!
………..

بستیاں ہیں بھوک کے خمیر میں ڈھلی ہوئی
شاخچوں کے طشت پر دھرے فروٹ، شکریہ

آج بھی مرے خیالوں میں حنوط ہے ظفر
دور جاتے قدموں کی نوائے بوٹ، شکریہ


یاد بھی کیسی وارداتی ہوئی
چھلنی چھلنی ہماری چھاتی ہوئی

زیست چاہتی ہے کوئی شکل کہن
ہر نئے چاک پر چڑھاتی ہوئی

یہ دھڑکنے لگا ہے سب کے لئے
دل کی جاگیر شاملاتی ہوئی

مجھ کو پہروں رُلایا کرتی ہے
ایک تصویر مسکراتی ہوئی

مدتوں بعد میں ملا خود سے
اک ملاقات تعزیاتی ہوئی

ناشناسا یہی نگاہ تھی کیا؟
ساتھ جو دور تک ہے آتی ہوئی

دیکھتا ہوں کہاں سے آتا ہوا
کیا خبر وہ کہاں ہے جاتی ہوئی

اب سبھی پر سوار ہوں میں ظفر
یوں تو ہر موج تھی ڈراتی ہوئی


خانگی زندگی جو فلماتی
ایک ہارر سی مووی بن جاتی

کٹی کرنا نہیں رقیبوں سے
چاہئیے ہوں گے تم کو باراتی

ہو رہا ہے پڑوسنوں کا اکٹھ
کوئی سازش نہیں محلاتی

اُس کے نخرے بھی ہیرو جیسے ہیں
جس کی کیمسٹری ہے جناتی

کیسے آگے بڑھے گی دنیا میں
چل رہی ہے جو قوم لنگڑاتی

آ لیا برشگالِ شامت نے
اورپلے نہیں ہے برساتی

اُس کو تگڑا تو ہونا پڑتا ہے
جس پہ حملہ ہوا ہو سہ گھاتی

باعثِ بلوہ ہیں بہت سی وجوہ
کچھ سوالاتی ،کچھ جواباتی

وہ بھی طوفان بن کے غرائے
جس کی اوقات ہے بخاراتی


ہوس تو سب کی نگاہوں میں جھلملاتی ہے
خوشی ہمیں سے بدن کیوں سدا چراتی ہے

زمانہ رہتا ہے اِک شورشِ دُخان میں گم
تری صدا ہے جو مجھ میں دئے جلاتی ہے

یہ چاند سب کی چھتوں پر اُترتا ہے شائد
نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے، میرا ذاتی ہے

کہاں بقائے محبت کے جام اور کہاں میں
مجھے یقیں ہے ، مرا کیس نفسیاتی ہے

چھپا ہوا ہوں کسی یاد کے دھندلکے میں
مری تلاش میں دنیا کی بے ثباتی ہے

تو کیا میں پھر سے فریبِ امید میں آ جاؤں
یہ شام پھر میرے خوابوں کو گدگداتی ہے

وہ کائنات مرے حجرۂ بدن میں بھی ہو
جو میری فکر کو لے لے کے اُڑتی جاتی ہے