نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری غزلیں

جن سے متروک رشتے ناتے ہیں
ہر سمے سے وہ جھانک جاتے ہیں

ماتمِ تیرگی بھی اپنی جگہ
آؤ اپنے دئے جلاتے ہیں

یہ ترا ہجر، تیرا غم، توبہ!
آسماں دوش پر اُٹھاتے ہیں

کوئی پرواز کا جواز نہیں
ہم یونہی خود کو پر لگاتے ہیں

میں تو تجھ سے بچھڑ کے زندہ ہوں
لوگ جنگل میں کھو بھی جاتے ہیں

درِ میخانہ خود نہیں کھلتا
لوگ اپنی جگہ بناتے ہیں

کھینچ لی جب زمین قدموں سے
خواب کیوں چاند کے دکھاتے ہیں

کوئی چلتا ہو نیند میں جیسے
اپنی جانب یوں چل کے آتے ہیں

موسمِ یجر آ کے جاتا نہیں
چھوڑنے والے چھوڑ جاتے ہیں

خاک بیدار ہو سکے گا کوئی
کسی تنویم میں جگاتے ہیں

میں تو خود کو بھی بھول آیا ہوں
لوگ زادِ سفر بھی لاتے ہیں

زعم کیا ہو جراحتوں کا ظفرؔ
پھر نئے زخم مسکراتے ہیں

Advertisements

گھورتا ہے اُس کا بھائی فیل تن علیٰحدہ
اور رقیب بھی بنا ہے ٹارزن علیٰحدہ

پولیٹکس میں نہیں تو چانس ہی گنوا دیا
جن کے بینک میں بھرا ہے کالا دھن علیٰحدہ

کالی پیلی سی صحافتوں کے طور دیکھئے
سُرخیاں علیٰحدہ ہیں اور متن علیٰحدہ

بیویوں کے پاتھ میں بھی بیلنوں کے ہیں تبر
اور دور بھی ہے خاصا پُر فتن علیٰحدہ

اُس کی سازشوں سے ہی پٹا ہوں میں مبینہ
دے رہے تھے جو وفاؤں کے وچن علیٰحدہ

بیویوں کا شک میاؤں پر بھی پہلے کم نہیں
حشر ڈھا رہا ہے پنکی کا چلن علیٰحدہ

تین تین مرلوں کے گھروں میں ہم کرائے دار
لے کے بیٹھے ہیں وہ گلشنِ عدن علیٰحدہ

دال بھات سے میاں کے یار کی مدارتیں
کر لیا ہے اپنے واسطے چکن علیٰحدہ

لیڈروں کی پود بھی سیاستوں میں آ گھسی
تن گئی ہے قوم پر یہ اور گن علیٰحدہ

لُوٹتے نہیں زنانہ وار ہی مشاعرے
بزم میں وہ کر رہے ہیں چھن چھنن علیٰحدہ


پڑا ہے ایک یاد اوڑھ کر بدن علیٰحدہ
بدل رہی ہے زندگانی پیرہن علیٰحدہ

کہیں کہیں پہ خون میں جنون کیسا آ گیا؟
پیامِ یزداں ہے الگ یا اہرمن علیٰحدہ؟؟

ہر ایک شاخِ آرزو پہ زخم بھی کھلے رہے
بہار بھی مگن رہی چمن چمن علیٰحدہ

میں دفن ہو چکا ہوں عمرِ رائیگاں کی قبر میں
مرے لئے ہے زندگانی کا کفن علیٰحدہ

بجا غموں کی یورشوں میں خُوئے صبر خوب ہے
مگر ہے مسکرائے جانے کا بھی فن علیٰحدہ

کسی بھی مصلحت سے ماندہ پا نہیں ہوا کبھی
مجھے لئے پھرا جنوں کا بانکپن علیٰحدہ

بھٹک بھٹک کے راستوں پہ مل ہی جائیں گے کہیں
جلوسِ رہرواں سے ناخدائے من علیٰحدہ

ہم ایک سمت بہتی موجِ صوت ہیں تو ایسا کیوں
تری پکار اور ہے مرا سخن علیٰحدہ

مرے نصیب میں ہے اُس دیار میں بھی دارِ شب
ستیزہ کار ہے جہاں کرن کرن علیٰحدہ

یہ کیسے فاصلوں کی ہے خلیج درمیان میں
غمِ زمانہ ہے جدا، تری پھبن علیٰحدہ

حوادثِ زمانہ کے عذاب اک طرف ظفرؔ
تمام عمر اک سمے کی ہے چبھن علیٰحدہ


کیا کریں گے وہ بھلا سوزِ جگر کی تشریح
جن سے ہو پاتی نہیں میری نظر کی تشریح

کسی ٹھہراؤ کی خاطر تھا سفر کا جوکھم
اور منزل ہے کسی اور سفر کی تشریح

داستاں گو سے کبھی آپ بھی پوچھیں تو سہی
کیوں ہے ظلمت کے حوالے سے سحر کی تشریح

جس کی بیدردی کا افسانہ جہاں بھر نے پڑھا
اُس پہ کُھلتی ہی نہیں دیدۂ کی تشریح

نئے امکانوں کی تفہیم وہی لاتے ہیں
جن کناروں سے الجھتی ہے بھنور کی تشریح

لوگ ملتے ہیں تو تفہیم کے در کھلتے ہیں
بند دروازوں سے ہوتی نہیں گھر کی تشریح

خود کو کھونے کی کہانی کوئی بتلائے کیا
مجھ سے ہو سکتی نہیں اپنی خبر کی تشریح

دلِ ویراں ہے نگاہوں کے عجائب گھر میں
دیکھنے والوں سے پوچھیں گے کھنڈر کی تشریح

کیسے اوہام کی بجتی ہیں دفیں راتوں میں
ڈرنے والوں سے بھی ہوتی نہیں ڈر کی تشریح

یہ الگ بات کہ اسلوب جدا ہے سب کا
ہر زمانے سے سنی زخمِ ہنر کی تشریح

کسی آئینہ پہ ایمان کہاں رکھتے ہیں
مانتے ہیں وہ کسی عدلِ دگر کی تشریح

طعنۂ چُپ بھی وہ دینا نہیں بھولے ہیں کبھی
اور خوش بھی نہیں آتی ہے ظفر کی تشریح


کبھی بدلے نہ آئینہ تماشا
وہی میں ہوں وہی اپنا تماشا

یوں سب پر منکشف ہوتا ہوں جیسے
مرا ہونا ہو ان دیکھا تماشا

مری آنکھوں سے بھی آنسو ٹپکتے
مری پلکوں سے بھی رِستا تماشا

پھر اپنے رنگ چھوڑے جا رہا ہے
مرے ادراک میں پگھلا تماشا

سبھی ٹوٹے پڑے تھے دیکھنے کو
کھنڈر میں جن کا اپناتھا تماشا

ابھی بھیگے نہیں تلوے بھی میرے
ندی کے پار ہے کس کا تماشا

دھنک سی واقعی پھیلی ہوئی ہے
یا اِن نظروں کا ہے دھوکا تماشا

تماشائی جھلستے جا رہے ہیں
کہاں ہے سبز منظر کا تماشا

لگائے بیٹھا ہے میری غزل میں
ہر اک امروز کا فردا تماشا


لے کے چلے تھے رند کہاں سے شامِ وعدہ
جس میخانے میں پیمانہ ہے نہ بادہ

اُس کا ملنا ناممکن ہے جانتا ہوں میں
باندھ لیا ہے پھر بھی اک ناکام ارادہ

تیری یادیں میرا جیون چاٹ رہی ہیں
جیسے برف نے پہنا ہو شعلوں کا لبادہ

ہر رستے نے دلدل کا بہروپ بھرا ہے
پھر بھی میں ہر نئی مسافت کا دلدادہ

ظلمت نے طوفان اُٹھا رکھا ہے اس پر
یہ ننھی سی شمع کیوں ہے دور افتادہ

میں اپنے دیوان کو دیکھ کے ہنس دیتا ہوں
لوگ پڑھیں گے لے کر یہ اوراقِ سادہ


پاؤں سے جو بندھا ہے وہ چکر اُتار دے
آوارگی کے شوق کو گھر پر اُتار دے

کب تک کسی کی یاد کو دل سے لگائے گا
یونہی چڑھی ہوئی ہے یہ سر پر، اُتار دے

اک عمر کے سفر سے بدن ہے نڈھال سا
یہ وہ تھکن نہیں ہے کہ سو کر اُتار دے

ظلمت کسی بھی دُرز سے داخل نہ ہو سکے
ہر آسماں پہ چاند کا منظر اُتار دے

آخر رہے گی ہجر کی عدت میں کب تلک
ماتھے سے ایک نام کا جھومر اُتار دے

جب بھی کسی کے ذکر کے دامن کو تھام لے
اشعار میں دھنک سی سخنور اُتار لے

یوں اشتہار تجھ سے اُتارے نہ جائیں گے
دیوار کا تمام پلستر اُتار دے

کب تک جئے گا بیتی ہوئی ساعتوں میں تو
گزرے ہوئے برس کا کلینڈر اُتار دے

خاموش ہو تو جیسے سزا دیتا ہو مجھے
بولے تو جیسے روح میں خنجر اُتار دے

اس تشنگی کی آگ نے بجھنا نہیں ظفر
چاہے تو خود میں سارا سمندر اُتار دے