نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری غزلیں

اک داغِ ہجر یوں دلِ مضطر میں پڑ گیا
جیسے کوئی شگاف سمندر میں پڑ گیا

دیکھا ہے کس نظر سے کہ دھندلا گیا ہوں میں
کیسا یہ قفل اُس کے کھلے در میں پڑ گیا

جب بھی مری مہارتیں ناوک فگن ہوئیں
دیکھا ہد ف تو میرے ہی پیکر میں پڑ گیا

اک آگہی تھی جس نے مجھے سونے نہیں دیا
اک درد تھا جو دل کے شناور میں پڑ گیا

کام آ سکا نہ میری اُڑانوں کا بانکپن
یونہی میں خودبخود کسی منظر میں پڑ گیا

کس لمس کے گلاب نے یوں گدگدا دیا
اِک دھڑکنوں کا سلسلہ پتھر میں پڑ گیا

اک خواب تھا جو نیندیں اُڑا لے گیا ظفر
اک لمحہ تھا جو عرصہء محشر میں پڑ گیا

Advertisements

گھر سے کیا نکلوں کہ آلے مجھے فوراًساون
میرے سر پر ہی بنا لے نہ نشیمن ساون

رات مجھ کو بھی کسی یاد نے بیکل رکھا
دیکھ سکتا ہے مری آنکھوں کی سوجن ساون

روتی رہتی ہے ٹپکتی ہوئی احساس کی چھت
بھرتا جاتا ہے مری روح کا برتن ساون

بڑی مشکل سے سمیٹا تھا بدن میں خود کو
آ گیا پھر سے مجھے لوٹنے رہزن ساون

مدتوں بعد بھی توفیقِ شکیبائی نہیں
وہی میں ہوں وہی بھیگا ہوا دامن ساون

بات بن سکتی نہیں گریۂ پیہم سے کبھی
یوں سلجھتی نہیں دل کی کوئی الجھن ساون

چشمِ گریاں کوئی بازیچۂ اطفال ہے کیا
کھیلتی پھرتی ہیں یادیں یہاں ساون ساون

جنسِ آسودگی کے نام پہ کیا لے آیا
بیچ کر عمر کے ہاتھوں میرا بچپن ساون

برق نے جھانک کے دیکھا ہے ابھی کھڑکی سے
روک لے گا میرا رستہ میرا دشمن ساون

ساری دنیا ہے کسی دیدۂ تر کی صورت
موسمِ ہجر کے ہاتھوں کا ہے درپن ساون

تیرے رونے سے کوئی فرق نہیں پڑنے کا
پتھروں میں نہیں پڑتی ہے یوں دھڑکن ساون


بات جو حق پر آن پڑی ہے
سرِ ہتھیلی جان پڑی ہے

دل نگری آباد تھی تجھ سے
اب تو یہ سنسان پڑی ہے

ہونی تھی الفت اب اس میں
انہونی کیا آن پڑی ہے

خاروں خار ہیں لوگ جہاں پر
پھولوں کی مسکان پڑی ہے

راہی چلتے ہی جاتے ہیں
منزل بے امکان پڑی ہے

خلقِ خدا کیا صوتِ سگاں ہے
پیچھے کیوں ہر آن پڑی ہے

چاروں اور ہیں خون کے دھبے
اور کٹیا ویران پڑی ہے

ہر گھمبیر سکوت کے پیچھے
رودادِ طوفان پڑی ہے

ترکِ وفا کیا خاک کرو گے
جب فکرِ تاوان پڑی ہے

سوختہ ساماں یاد ہے کس کی
صورتِ لوبان پڑی ہے

جب سے کافر ہوا ہے یہ دل
بنیادِ ایمان پڑی ہے

اُس کی باتیں توبہ توبہ
لگتا ہے کرپان پڑی ہے

دل کا خون کیا ہے شامل
تب لفظوں میں جان پڑی ہے


جب کہیں کوئی نہیں ہے تو ہے کیسی آہٹ
کیسے جائے گی مرے دھیان سے لپٹی آہٹ

خوش گمانی نے عجب شغل لگائے رکھا
کبھی دستک کوئی جاگی کبھی گونجی آہٹ

روشنی کیوں رہی امکان کی حد سے بھی پرے
جب سرِ زینۂ شب جاگ اُٹھی تھی آہٹ

حجرۂ خواب سے نکلا تو عجب کیف میں تھا
سرسراتی رہی اطراف میں یونہی آہٹ

مجھ سے اٹکھیلیاں کرتا رہا اک شوخ گماں
مجھ کو چونکاتی رہی ہے میری اپنی آہٹ

سارے منظر ہیں زمانے کی ہوا کا ہدیہ
اپنے اندر سے نہ آئی مجھے کوئی آہٹ

جو مٹا تا رہا رستے سے ہر اک نقشِ قدم
نقش ہے اب بھی مرے دل میں اُسی کی آہٹ

میری دھڑکن کو ترے سینے کا روزن نہ ملا
میری ہر چپ میں سے رِستی رہی تیری آہٹ

ایک سایہ سا ہمہ وقت مرے ساتھ رہا
ایک خوشبو سی بکھیرے رہی پگلی آہٹ


کردار ہمارے بھی فسانے کے عجب ہیں
وہ قتل بھی کرتے ہیں جو جینے کا سبب ہیں

مل جائیں گی خوشیاں بھی یونہی تم کو کسی دن
کیا غم ہے مقدر میں اگر رنج و تعب ہیں

کیا خاک علم لے کے سحر کا کوئی نکلے
جو دن کے مسافر تھے سرِ خیمہ شب ہیں

کچھ شہر کے آداب موافق نہیں اب کے
کچھ آپ کے دیوانے بھی زنجیر طلب ہیں

تب بھی مری ہر سانس ترے نام لکھی تھی
اب کے بھی شب و روز پہ یادوں کے نقب ہیں

یہ دیکھ کے بھی صبر مجھے آتا نہیں ہے
جو میرے نہیں ہو سکے اپنے بھی وہ کب ہیں

کس دور میں ہم اہلِ جنوں پیدا ہوئے ہیں
انداز ہیں جینے کے نہ مرنے کے ہی ڈھب ہیں

چپ چاپ سبھی قتل ہوئے جاتے ہیں کیانی
کچھ دیکھتی آنکھیں ہیں نہ کچھ بولتے لب ہیں


درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے
کوئی آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جاتا ہے

خامشی پہنی تھی اوروں سے زیادہ میں نے
دیکھنے والوں کا کیوں مجھ پہ ہی شک جاتا ہے

دل کے آوازے کو زنجیر بھی پہنا دیکھی
یہ مگر صورتِ پازیب چھنک جاتا ہے

کبھی رہنے نہیں دیتا ہے تہی دست مجھے
جو بھی آتا ہے کوئی دے کے کسک جاتا ہے

بددعا سی ہے مسافر کو کسی کی شائد
پاس آ جاتی ہے منزل تو بھٹک جاتا ہے

جب کبھی دل میں تری یاد کی لو جاگتی ہے
میرے اندر کوئی بچہ سا ہمک جاتا ہے

کالے کوسوں کے مسافر کو سکوں خاک ملے
اپنی جانب بھی تو چلتے ہوئے تھک جاتا ہے

تشنگی روح کی بجھتے نہیں دیکھی ہے کبھی
ویسے جانے کو تو لب جام تلک جاتا ہے

اِس کو پاتال میں گرتے ہوئے بھی دیکھا ہے
یہ زمیں زاد جہاں تابہ فلک جاتا ہے



کسی آنسو کی طرح میں بھی بہا آخرِ شب
قطرہء خوں سرِ رخسار ڈھلا آخرِ شب

عازمِ راہِ عدم بھی تھے عجب جادو میں
روک پائی نہ اُنہیں کوئی دعا آخرِ شب

سر پٹختی ہوئی موجوں نے پئے دہدہ وراں
اک فسانہ سرِ گرداب لکھا آخرِ شب

اب وہ محفل ہے نہ رونق ہے نہ رقاص نہ گیت
ڈوبتی جاتی ہے بربط کی صدا آخرِ شب

روشنی پھیل گئی مجھ میں نئے خوابوں کی
کیا خبر چاند نے کیا جھک کے کہا آخرِ شب

گھول بیٹھا تھا مری ذات اندھیرے میں کہیں
میرے اندر کوئی آسیب سا تھا آخرِ شب

معرکہ ظلمتِ شب سے نہ ہو گر فیصلہ کُن
ہم بجھا دیتے ہیں خود اپنا دیا آخرِ شب

چپ کا اسلوب نئے خواب جگا دیتا ہے
پھیکے پڑ جاتے ہیں جب رنگِ نوا آخرِ شب

اِتنی آیاتِ محبت کے اُترنے پر بھی
دل کا تاریک ہے کیوں غارِ حرا آخرِ شب