نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری غزلیں

وہ سنگ کیوں ہوا گداز خود بھی جانتا نہیں
چھڑا ہوا ہے کیسے ساز خود بھی جانتا نہیں

اگرچہ مدتوں سے روز و شب کی ٹکٹکی پہ ہوں
مگر حیات کا جواز خود بھی جانتا نہیں

زمین کے کٹاؤ کی طرح نگل نگل گیا
یہ غم ہے کیسے دل نواز خود بھی جانتا نہیں
ش
ہیدِ ناز پر فسردہ ہو گیا ہے آپ بھی
تو کیا وہ حسنِ بے نیاز خود بھی جانتا نہیں

میں کیا کہوں کہ پہنچ پایا کتنی صدیاں پھاند کر
میں کیا کروں کہ در ہے باز، خود بھی جانتا نہیں

شجر بچھائے جا رہا ہے عاجزی سے ٹہنیاں
پرندے پڑھتے ہیں نماز خود بھی جانتا نہیں

کہاں کہاں سے کر دیا ہے وقت نے حذف مجھے
کہاں کہاں ہے ارتکاز خود بھی جانتا نہیں

محبتوں کا جو ہنر ہے اُس میں کیسا نقص ہے
وہ اجنبی سا اعتزاز خود بھی جانتا نہیں

پرو دیا ہے شعر شعر اُس کی بات بات کو
کھلے گا یوں سبھی پہ راز، خود بھی جانتا نہیں


کسی کی آرزؤیں اب بھی ہم میں رقص کرتی ہیں
سنہری مچھلیاں’’ اِکویریم‘‘ میں رقص کرتی ہیں

کوئی طوفاں دبا پاتا نہیں دِل کی صداؤں کو
یہ جل پریاں تو آبِ یم بہ یم میں رقص کرتی ہیں

ہماری الفتوں کو آپ نے ہلکا نہیں لینا
بہ رنگِ ہست بھی خوابِ عدم میں رقص کرتی ہیں

یہ پیغامات پہنچاتی ہیں تم تک میرے مولا کا
اگر چڑیاں تمھارے آشرم میں رقص کرتی ہیں

میں اُن پر چل کے بھی کیوں منزلوں کا ہو نہیں پایا
جو راہیں زندگی کے پیچ و خم میں رقص کرتی ہیں

تری یادیں تو جیسے بن گئی ہیں دھڑکنیں،پیارے!
یہ رقاصائیں بھی دل کے حرم میں رقص کرتی ہیں

نیامِ مصلحت میں رہ کے جن کو زنگ لگتا ہے
وہی تلواریں لہراتے علم میں رقص کرتی ہیں

امیدیں سینۂ خنجر پہ چل کر بھی نہیں رُکتیں
یہ حسرت بن کے بھی جیسے ارم میں رقص کرتی ہیں

تمھارے ہجر کی غزلیں ، تمھارے وصل کی نظمیں
دلوں میں تھرتھراتی ہیں، قلم میں رقص کرتی ہیں


ذکر ہم جیسے کج راؤں پر آیا ہے اپسراؤں کی باتیں بتاتے ہوئے
آپ کا تذکرہ بھی کیا جائے گا پارساؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جانے وہ کیوں گرجنے برسنے لگے شا نتی کی کہانی کے اِک موڑ پر
جانے ہم بھی کیوں خاموش سے ہو گئے بے نواؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جو ہتھیلی کے نقشے کو تبدیل کر کے فلک بوس ٹاور کھڑے کر گیا
اُس کے لہجے میں حسرت سی کیوں آ گئی اپنے گاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ جو اُن کی حفاظت کے ہتھیار ہیں، اب اُنہیں کی ہلاکت کو تیار ہیں
لوگ خود ہی جراثیم بننے لگے ہیں وباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا کہیں کس ہوا میں رہے تب تلک، نہ زمیں زیرِ پا تھی نہ سر پر فلک
اپنی دھرتی کا قصہ سناتے ہوئے یا خلاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ وہ رشتوں کی بیلیں ہیں جن سے سداہم نے دیکھا ہے روحوں کو سرسبز سا
جوئے خوں سب کی آنکھوں سے جاری ہوا اپنی ماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

برش سارے ہی رنگوں میں پھیرا ہے تو اپنی تصویر کو دی صداقت کی لو
ذکر ڈستی ہوئی دھوپ کا بھی کیا ٹھنڈی چھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

سامنے کیسا منظر روانی کا تھا، ریت پر وہم کیوں ہم کو پانی کا تھا
رہزنوں کا خیال آ گیا کس طرح رہنماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

ساربانوں کے سب قافلے جا چکے،گزرے ادوار کو راستے جا چکے
ہم بھی رخشِ زماں پر ہیں محوِ سفر اِن کتھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا خبر داستاں کے کسی موڑ پرچھیڑ دے درد کا ساز کون آن کر
دھر لیا کرتے ہیں ہاتھ دل پر ظفرؔ دلرباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے


جھٹپٹے میں ہی اذاں دینے لگے خوابِ سحر
آخرش آ ہی گئے اِن کو بھی آدابِ سحر

رات دروازے سے اندر نہیں آ پائے گی
میری آنکھیں مرا دل منبر و محرابِ سحر

مارتا پھرتا ہے شب خوں بڑی بے خوفی سے
لشکرِ ظلمتِ شب میں کوئی مہتابِ سحر

جب بھی مایوسی کے موسم نے چمن کو جکڑا
مسکرا دیتا ہے کوئی گلِ شادابِ سحر

نور افشانی رہی شب کے شہیدوں سے بھی
صرف سورج ہی نہیں گوہرِ نایابِ سحر

سانپ لپٹا نہیں اس پیڑ سے مایوسی کا
مضمحل ہوتے نہیں ہیں کبھی اعصابِ سحر

جادوئے خامشیء شب میں کہاں آتے ہیں
گیت بُنتے ہی چلے جاتے ہیں مضرابِ سحر

تب بھی ڈالی نہ سپر معرکہ آراء دل نے
باز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ہر اک بابِ سحر

اب کے خود اپنے لہو سے ہی بجھی تشنہ لبی
کب ملی میکدہء وقت سے مے نابِ سحر



تیرے میرے درمیاں وابستگی کا اک سوال
اُٹھ رہا ہے تو کروں کیا دلبری کا اک سوال

بن نہیں پایا فراتِ عصر سے کوئی جواب
ریت پر لکھا ہوا تھا تشنگی کا اک سوال

منظروں پر راستے چپکا کے اکثر جابجا
مجھ کو بھٹکاتا رہا ہے آگہی کا اک سوال

وہ تو اپنے غم کا بھی پرچہ تھمانے لگ گئے
مجھ سے حل ہوتا نہیں ہے زندگی کا اک سوال

کیوں عبث کرتا ہوں جادہ ناشناساؤں سے میں
سیدھے رستے پر کسی کی کمرہی کا اک سوال

خود کو تج کر میں نے سب کی آرزؤیں پوری کیں
اور جب میں نے کیا اپنی خوشی کا اک سوال

کب سے ہے قلب و نظر میں تیرگی کا زنگ سا
کتنی صدیوں سے ہے میرا روشنی کا اک سوال

کوئی سنتا ہی نہیں ہے سر پٹختی التجا
شور کب سے کر رہا ہے خامشی کا اک سوال

یوں تو وہ جا بھی چکا لیکن درودیوار پر
کر گیا چسپاں نگاہِ آخری کا اک سوال

بھید سارے کھل گئے تھے دیکھتے ہی دیکھتے
اُن کی آنکھوں سے کیا تھا بیخودی کا اک سوال