نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری غزلیں

کردار ہمارے بھی فسانے کے عجب ہیں
وہ قتل بھی کرتے ہیں جو جینے کا سبب ہیں

مل جائیں گی خوشیاں بھی یونہی تم کو کسی دن
کیا غم ہے مقدر میں اگر رنج و تعب ہیں

کیا خاک علم لے کے سحر کا کوئی نکلے
جو دن کے مسافر تھے سرِ خیمہ شب ہیں

کچھ شہر کے آداب موافق نہیں اب کے
کچھ آپ کے دیوانے بھی زنجیر طلب ہیں

تب بھی مری ہر سانس ترے نام لکھی تھی
اب کے بھی شب و روز پہ یادوں کے نقب ہیں

یہ دیکھ کے بھی صبر مجھے آتا نہیں ہے
جو میرے نہیں ہو سکے اپنے بھی وہ کب ہیں

کس دور میں ہم اہلِ جنوں پیدا ہوئے ہیں
انداز ہیں جینے کے نہ مرنے کے ہی ڈھب ہیں

چپ چاپ سبھی قتل ہوئے جاتے ہیں کیانی
کچھ دیکھتی آنکھیں ہیں نہ کچھ بولتے لب ہیں


درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے
کوئی آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جاتا ہے

خامشی پہنی تھی اوروں سے زیادہ میں نے
دیکھنے والوں کا کیوں مجھ پہ ہی شک جاتا ہے

دل کے آوازے کو زنجیر بھی پہنا دیکھی
یہ مگر صورتِ پازیب چھنک جاتا ہے

کبھی رہنے نہیں دیتا ہے تہی دست مجھے
جو بھی آتا ہے کوئی دے کے کسک جاتا ہے

بددعا سی ہے مسافر کو کسی کی شائد
پاس آ جاتی ہے منزل تو بھٹک جاتا ہے

جب کبھی دل میں تری یاد کی لو جاگتی ہے
میرے اندر کوئی بچہ سا ہمک جاتا ہے

کالے کوسوں کے مسافر کو سکوں خاک ملے
اپنی جانب بھی تو چلتے ہوئے تھک جاتا ہے

تشنگی روح کی بجھتے نہیں دیکھی ہے کبھی
ویسے جانے کو تو لب جام تلک جاتا ہے

اِس کو پاتال میں گرتے ہوئے بھی دیکھا ہے
یہ زمیں زاد جہاں تابہ فلک جاتا ہے



کسی آنسو کی طرح میں بھی بہا آخرِ شب
قطرہء خوں سرِ رخسار ڈھلا آخرِ شب

عازمِ راہِ عدم بھی تھے عجب جادو میں
روک پائی نہ اُنہیں کوئی دعا آخرِ شب

سر پٹختی ہوئی موجوں نے پئے دہدہ وراں
اک فسانہ سرِ گرداب لکھا آخرِ شب

اب وہ محفل ہے نہ رونق ہے نہ رقاص نہ گیت
ڈوبتی جاتی ہے بربط کی صدا آخرِ شب

روشنی پھیل گئی مجھ میں نئے خوابوں کی
کیا خبر چاند نے کیا جھک کے کہا آخرِ شب

گھول بیٹھا تھا مری ذات اندھیرے میں کہیں
میرے اندر کوئی آسیب سا تھا آخرِ شب

معرکہ ظلمتِ شب سے نہ ہو گر فیصلہ کُن
ہم بجھا دیتے ہیں خود اپنا دیا آخرِ شب

چپ کا اسلوب نئے خواب جگا دیتا ہے
پھیکے پڑ جاتے ہیں جب رنگِ نوا آخرِ شب

اِتنی آیاتِ محبت کے اُترنے پر بھی
دل کا تاریک ہے کیوں غارِ حرا آخرِ شب


ہو گئی جب سے مرے درد کی شدت کم کم
مسکرانے کی بھی رہنے لگی عادت کم کم

بات رہ جائے گی میری ،میرے اندر گھٹ کر
اذنِ گویائی پہ ہوجائے گی ہمت کم کم

اب مرا ذوقِ سفر ہی مری انگلی تھامے
راستوں نے مری کرنی ہے قیادت کم کم

میری دوزخ سے تو فردوس کوئی دور نہیں
وقت دیتا ہے مگر سیر کی فرصت کم کم

سانحہ مجھ پہ جو گزرا ہے، کہوں تو کیسے
سنگ باری کی ہے پانی پہ اشارت کم کم

کب سے ملنے نہیں آیا مرے غرفے سے مجھے
چاند کے پاس بھی شائد ہے بشارت کم کم

مجھ سے کیا اپنی صفائی میں کہا جا سکتا
مل رہی تھی مجھے کچھ کہنے کی مہلت کم کم

اب مجھے خود ہی نظر آنا پڑے گا سب کو
شہر والوں میں تو ہوتی ہے بصارت کم کم

میں نے روداد تو خود آپ کی لکھی ہے مگر
آپ نے ایسی پڑھی ہو گی حکایت کم کم

اپنے بارے میں بھلا خاک بتائیں گے ظفر
خود سے کرتے ہیں ملاقات یہ حضرت کم کم


جس زمانے میں ہوا علمِ جہالت کم کم
باندھی جانے لگی دستارِ فضیلت کم کم

میرے کردار سے تفہیمِ فسانہ کیا ہو
اِس میں تفصیل زیادہ ہے وضاحت کم کم

زندہ رہنا ہے بہرحال اِسی دنیا میں
زندہ رہنے کی اگرچہ ہے سہولت کم کم

آسماں سے بھی ہے کچھ بیر خدا واسطے کا
اور چھت بھی تو سروں پر ہے سلامت کم کم

غمِ ہستی نے بھی چھوڑا نہ ہمارا دامن
مسکرانے کی بھی ہم کو رہی عادت کم کم

آکسیجن کی طرح تھا جو مرے جیون میں
اب اُسی نام سے بھی مجھ کو ہے نسبت کم کم

ہول آتا ہے چراغوں سے مرے لوگوں کو
آزماتی ہے نئے دور کی ظلمت کم کم

اِسی باعث ہمیں جینے کا ہنر نہ آیا
"شہر میں رزق تو وافر تها محبت کم کم”

اژدھے اپنی زبانوں میں ہیں پالے ہم نے
آسمانوں سے اُترتی ہے مصیبت کم کم


پہچان کی دہلیز یہ لایا تھا اور بس
آئینے نے طلسم دکھایا تھا اور بس

شب کے خلاف سارا شہر اُٹھ گھڑا ہوا
میں نے تو اک چراغ جلایا تھا اور بس

جس کی طلب میں زندگی ساری خراب کی
اُس نے مجھے بھکاری ہی پایا تھا اور بس

پھر تو مجھے سمندر بھی پایاب ہی لگے
ایک ہی ندی نے مجھ کو ڈرایا تھا اور بس

کاٹی ہے ساری عمر ہی قیدِ حیات میں
اپنے بدن کو زنداں بنایا تھا اور بس

پھر یوں ہوا کہ اُن کا سفر نہ کبھی تھکا
چڑیوں کو اک شجر سے اُڑایا تھا اور بس

میں اُس سے آگے آپ ہی بڑھتا چلا گیا
اُس ناخدا نے چلنا سکھایا تھا اور بس

پھر اُس کو بھولنے کا سلیقہ نہ آ سکا
کہنے کو کہہ دیا تھا پرایا تھا اور بس

جیون میں تُو تھا مجھ کو نشاں زد کئے ہوئے
میں کیا تھا کچھ نہ تھا تیرا سایہ تھا اور بس

تنہائیوں کی قبر میں اُترا ہوا تھا میں
اک یاد کے دیے کو بجھایا تھا اور بس



شہر بھر میں کیوں اُس کی ہم نے جستجو کی تھی
وہ ستمگر کہ جس کی ہر ادا عدو کی تھی

دل ہی بجھ گیا تھا پھر دیکھتا اُسے میں کیا
اُس نے اپنی خوشبو تو میرے چار سو کی تھی

کیسا زخم تھا کہ جو مندمل نہ ہو پایا
موت کے ہی ٹانکے سے زندگی رفو کی تھی

وہ جو دستِ ساقی میں تھیں، وہ ساری شمعیں تھیں
وہ جو ہر طرف تھی ،وہ روشنی سبو کی تھی

سب شجر گلستاں کے جھاڑ بیٹھے تھے دامن
ہائے کیسے موسم میں آرزونمو کی تھی

یوں خبر تودلدل کی مل گئی تھی رستے میں
ہم نہ لوٹ کر آئے بات آبرو کی تھی

کیسا دورِ جانکاری تھا کہ جس پر نازاں تھے
تھا وجدان بھی تشنہ، آگہی بھی بھوکی تھی

دیکھئے نصیبوں کو، چھوڑئے ان باتوں کو
کس کو ہم نے پایا ہے کس کی آرزو کی تھی

ذعمِ ضبط تھا ہم کوسو نظر نہیں آئی
جو پلک سے الجھی تھی بوند اک لہو کی تھی

آج شام محفل میں جانے کتنے لوگوں سے
ہم نے بات کی تھی یا خود سے گفتگو کی تھی

وصل کی کوئی خوشبو میں پہن کر نہ آیا
”حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی“

آج کیسی یادوں کی بارشوں میں بھیگا ہوں
آج کیسا غوغا ہے بات تو کبھو کی تھی