نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری غزلیں

لب بستگان کو بھی گلہ کچھ نہ کچھ تو ہے
خاموشیوں میں رنگِ صدا کچھ نہ کچھ تو ہے

میں مانتا ہوں اُس نے مجھے کر دیا تباہ
اس میں مگر مری بھی رضا کچھ نہ کچھ تو ہے

فردوس تو ہے آخری ہچکی سے قبل بھی
یہ سلسلہء ارض و سماء کچھ نہ کچھ تو ہے

جو میرے دل کی رُت ہے کسی پر کھلی نہیں
چہرے کا رنگ اس سے جدا کچھ نہ کچھ تو ہے

احباب کی جدائی نے مارا نہیں تو کیا
گہرا نہیں ہے زخم دلا! کچھ نہ کچھ تو ہے

لاحاصلی کے کتنے زمانوں سے ساتھ ہے
یہ جستجو کہ بعد از خلا کچھ نہ کچھ تو ہے

میں مطمئن تھا نام مٹا کر ترا مگر
دیوارِ جان پہ پھر بھی لکھا کچھ نہ کچھ تو ہے

سورج نہیں، میں کرمکِ شب تاب ہی سہی
ظلمت میں اہتمامِ ضیا کچھ نہ کچھ تو ہے

منصف یونہی تو بارِ دگر سوچتے نہیں
اب کے ترے بیاں میں نیا کچھ نہ کچھ تو ہے

یوں تو ہیں شر پسند کڑی نظروں میں ظفر
پھر بھی ہوائے صدق و صفا کچھ نہ کچھ تو ہے

Advertisements

میری خاموشی کیا بنی آواز
گونجتی ہے گلی گلی آواز

خود سے سر پھوڑتی پھرے ناحق
اپنے گنبد میں گونجتی آواز

ایک زنجیر سے بندھے ہیں ہم
میری آواز ہے تری آواز

شہر بھر کی صدا بنی کیسے
میرے اندر دبی دبی آواز

چپ کا اک سلسلہ ہے میرے بعد
میری آواز آخری آواز

اُس نے آواز مجھ کو دی ہوتی
میرا رستہ بھی روکتی آواز

چپ کے روغن میں ڈوب ڈوب گئی
در ودیوار میں بسی آواز

کوئی اس کو سنے سنے نہ سنے
میرے جذبوں کی خود سری آواز

ہائے کس نے مجھے پکارا تھا
چاروں جانب سے آئی تھی آواز

خامشی کا طلسم تو ٹوٹا
ہے غنیمت ڈری ہوئی آواز


کرتا ہے آئینے کی صداقت سے ہی گریز
کردے نہ وقت تیری حقیقت سے ہی گریز

بس میں نہیں کہ صورتِ حالات سے بچیں
بس میں نہ تھا کہ کرتے بغاوت سے ہی گریز

ترکِ وفا ہی ہجر کی تلخی کا ہے علاج
لیکن مجھے ہے ایسی سہولت سے ہی گریز

دستِ دھنک کی کیسی حراست میں آئے ہیں
کب سے ہے آپ اپنی ضمانت سے ہی گریز

دنیا نے ہائے، کیسا متنفر کیا اُسے
کرنے لگا ہے میری محبت سے ہی گریز

گمراہ کیوں کرے کوئی خوشبو بھی آن کر
جب ہے مرے یقیں کو بشارت سے ہی گریز

رستہ نہ کھوٹا کر دے کہیں رونقِ جہاں
اس واسطے ضروری ہے حیرت سے ہی گریز

پایاب پانیوں کے مسافر بنے ہیں ہم
اذہان کو ہے فکر کی ندرت سے ہی گریز

جا کر بھی میرے دل سے نہیں جائیں گے ظفرؔ
اب تو مہاجروں کوہے ہجرت سے ہی گریز


یوں نہ خود میں چپ سی بھر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!
جو گلہ ہےمجھ سے کر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

جو غبار سا ہے دل میں وہ نکالنا ہی بہتر
بھلے مجھ پہ تم بپھر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

مجھے اپنا حال کہہ دو کہ کروں میں غم غلط کچھ!
مرے درد کی خبر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یوں الگ تھلگ رہو گی تو بڑھے گی اور الجھن
نہ لہو میں یوں بھنور لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

مری زندگی سے چاہتی ہو اگر اُڑان بھرنا
میرے سارے بال و پر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یہ حقیقتوں کے دلدل کہیں کھا نہ جائیں تم کو
مرے خواب سے گزر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یہ جو دھوپ ہجر کی ہے، ہمیں رکھ نہ دے جلا کر
کوئی سایۂ شجر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

میں بچھا کے آ رہا ہوں سرِ رہگذار یہ دل
تم اِسی پہ پاؤں دھر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یونہی ریشمی سے جیون پہ سمے کا بار کیوں ہو
مرا رنگِ بارور لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یہ جو بھیگی بھیگی رُت ہے، مری ذات کا ہے ساون
سو نوائے چشمِ تر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!


لے کے چلے تھے رند کہاں سے شامِ وعدہ
جس میخانے میں پیمانہ ہے نہ بادہ

اُس کا ملنا ناممکن ہے جانتا ہوں میں
باندھ لیا ہے پھر بھی اک ناکام ارادہ

تیرے کوچے نے گنجلا رکھا ہے کب سے
اپنے آپ سے ملنے کا ہر ایک ارادہ

تیری یادیں میرا جیون چاٹ رہی ہیں
جیسے برف نے پہنا ہو شعلوں کا لبادہ

اب بھی پرانے شہر کے رہنے والے اکثر
تنگ مکانوں میں رہتے ہیں، دل ہے کشادہ

ہر رستے نے دلدل کا بہروپ بھرا ہے
پھر بھی میں ہر نئی مسافت کا دلدادہ

دنیا پر ہی ڈالتے ہیں تنقیدی نظریں
کس نے دیکھا بہرِ دنیا اپنا افادہ

ظلمت نے طوفان اُٹھا رکھا ہے اس پر
یہ ننھی سی شمع کیوں ہے دور افتادہ

میں اپنے دیوان کو دیکھ کے ہنس دیتا ہوں
لوگ پڑھیں گے لے کر یہ اوراقِ سادہ


حسرت ہو اور خواہش ہو اور بارش ہو
پھر یادوں کی سازش ہو اور بارش ہو

ضبط کے بندھن توڑ کے نکلے بھید کوئی
اُن پلکوں میں لرزش ہو اور بارش ہو

دوڑتا ہو شریانوں میں تیزاب سا کچھ
قلب و نظر میں آتش ہو اور بارش ہو

ہجر کے بادل دل سے گزرتے جاتے ہوں
فون ہو اُس کی پرسش ہو اور بارش ہو

اُس کی چپ میں لہراتی ہو قوسِ قزح
کچھ ہونٹوں میں جنبش ہو اور بارش ہو

دل کا فسانہ رُت کے رخساروں سے ڈھلے
بھیگی بھیگی کاوش ہو اور بارش ہو

ایک ہی صحرا ہو جیون کے رستے میں
ایک ہی غم کی یورش ہو اور بارش ہو

پھر سے کاغذ کی کشتی ہو، ہم تم ہوں
بچوں والی رنجش ہو اور بارش ہو


جن سے متروک رشتے ناتے ہیں
ہر سمے سے وہ جھانک جاتے ہیں

ماتمِ تیرگی بھی اپنی جگہ
آؤ اپنے دئے جلاتے ہیں

یہ ترا ہجر، تیرا غم، توبہ!
آسماں دوش پر اُٹھاتے ہیں

کوئی پرواز کا جواز نہیں
ہم یونہی خود کو پر لگاتے ہیں

میں تو تجھ سے بچھڑ کے زندہ ہوں
لوگ جنگل میں کھو بھی جاتے ہیں

درِ میخانہ خود نہیں کھلتا
لوگ اپنی جگہ بناتے ہیں

کھینچ لی جب زمین قدموں سے
خواب کیوں چاند کے دکھاتے ہیں

کوئی چلتا ہو نیند میں جیسے
اپنی جانب یوں چل کے آتے ہیں

موسمِ یجر آ کے جاتا نہیں
چھوڑنے والے چھوڑ جاتے ہیں

خاک بیدار ہو سکے گا کوئی
کسی تنویم میں جگاتے ہیں

میں تو خود کو بھی بھول آیا ہوں
لوگ زادِ سفر بھی لاتے ہیں

زعم کیا ہو جراحتوں کا ظفرؔ
پھر نئے زخم مسکراتے ہیں