نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: دیسی لمرک

اِک بالٹی نما کپ بیٹھے تھے لے کے حضرت
پوچھا گیا یہ اُن سے صاحب یہ کیا حماقت
بولے کہ ڈاکٹر نے
باندھا ہوا ہے اب کے
دن میں بس ایک ہی کپ کافی کی ہے اجازت

Advertisements

چاہے لگی ہو کام سے یا ہو فراغ سے
رکھتی نہیں ہے شوق وہ ہرگز ایاغ سے
پیتی ہے ہر سمے
اس میں ہے جو بھی شے
کچھ بھی نہیں لذیذ میاں کے دماغ سے


ایسا بھی ہے کوئی گلی میں اُلو آف دی کاٹھ
چھیڑ کے جو لڑکی کو کھا بیٹھا ہے جوتے ساٹھ
لیکن اپنے دیس
میں ہے یہ بھی کیس
کوئی پنامہ لیکس میں آ کر بھی ہے ٹھاٹھوں ٹھاٹھ


اِس الیکشن میں کمیشن کاوشِ عاقل کریں
دستاویزی تجزئے کو اور بھی کامل کریں
کل کلاں مل جائے گا
گُم گرانٹوں کا پتہ
ناپ توندوں کا اثاثہ جات میں شامل کریں


میری قسمت میری شامت نے لپیٹی تو نہیں
رانجھا و مجنوں و فرہاد سی ہیٹی تو نہیں
ایک مدت سے ہوں لٹکا، پھر بھی
فیصلہ ہوتا نہیں ہے کوئی
یہ مرا عشق حوالہء کمیٹی تو نہیں


ملنے والوں کو سقیم الحال ہی لگنے لگے
کیا کریں مشکوک جب اعمال ہی لگنے لگے
مچھروں کو مارنے کے جوش میں
تالیاں پیٹی ہیں کتنی کیا کہیں
دوستوں کو ہم نرے قوال ہی لگنے لگے