نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: حمد و نعت و منقبت

اسلامیوں کا اک نقشِ اسلم
ہونے نہیں دی لو حق کی مدھم
کعبہ میں سربسجدہ تھا ضیغم
فاروقِ اعظمؒ

ایمان دے کر تجھ سے ولی کو
تحفہ دیا تھا رب نے نبی کو
تحریک کر دی کچھ اور محکم
فاروقِ اعظمؒ

بہرِ وفا تھی جاں بر ہتھیلی
ہر جنگ میں تھا آقا کا ساتھی
تیغِ فساں تھی بے چین ہر دم
فاروقِ اعظمؒ

قیصر نہ کسریٰ ٹھہرا مقابل
ہر رن میں تجھ سے ہارا تھا باطل
اسلام کا اک لہراتا پرچم
فاروقِ اعظمؒ

الفاظ بخشے تونے اذاں کو
گویا بڑھا دی قندیل کی لو
تاحشر گونجے گا جس سے عالم
فاروقِ اعظمؒ

انصاف تیرا بے مثل ٹھہرا
تاریخ پر تھا اِک نقش گہرا
گفتار بے لاگ، کردار مبرم
فاروقِ اعظمؒ

کیوں ظلمتوں میں کھویا ہوا ہو
روشن ہمارا بھی راستہ ہو
کچھ لو تمھاری پالیں اگر ہم
فاروقِ اعظمؒ

Advertisements

مجھ میں نیا دریچۂ امکان نعت ہے
نابینا کوجو آنکھ ہوئی دان، نعت ہے

نیت تو باندھ لیجئے شہرِ خیال کی
بابِ سخن کی خیر ہے، دربان نعت ہے

ذکر نبی سے گویا دبستان کھل گیا
اک کہکشاں ہے، دیدۂ حیران نعت ہے

ہر سانس ہے معطر کہ میلاد برپا ہے
ہر لفظ کہ ہے صورتِ دیوان، نعت ہے

منظوم کر رہا ہوں حیاتِ رسول کو
وا ہے نظر کے سامنے قرآن، نعت ہے

رہرو بھی کارواں کی طرح ہے رواں دواں
بسکہ سخن سفر ہے تو سامان نعت ہے

دل میں جو تازگی ہے اسی کے طفیل ہے
سوئے مدینہ کھلتا ہوادان نعت ہے

الفاظ سے بنی ہوئی دنیا ہے عام سی
لیکن میں خاص ہوں مری پہچان نعت ہے

میری بساط کیا ہے کہ میں نعت لکھ سکوں
خود ہی جو بنتی جاتی ہے، ہر آن، نعت ہے

تجھ کو تو جیسے دولتِ کونین مل گئی
خوشا ظفرؔوراثتِ حسان نعت ہے


اُنڈیلوں گا دل و جاں بھی قلم کی روشنائی میں
تو حسبِ حق نہ لکھ پاؤں گا شانِ مصطفائی میں

میں اُن کے عشق کی رہداریوں سے ہو کے آیا ہوں
یہی رستہ نظر آیا مجھے رب تک رسائی میں

جو اُن کی نسبتیں پائیں تو گویا پا لیا سب کچھ
زمانوں نے بنایا مستقر میری اکائی میں

وہ جس پر بیٹھ کر خود آگہی کا درس دیتے تھے
زمین و آسماں کو جذب دیکھا اُس چٹائی میں

اِسی باعث تو محبوبِ خدا سے لو لگائی ہے
کہ رہنا چاہتا ہوں میں بھی قربِ کبریائی میں

جنوں کا رنگ دیکھا ہے،خرد کا روپ پایا ہے
بہ شکل ِعشق ہے جیون ،محمد کے فدائی میں

مدوّن نامۂ اعمال ذکرِ مصطفیٰؐ سے ہے
قیامت کویہی سرمایہ تو ہو گا صفائی میں


آتا ہے جب لبوں پر محمد کا اسمِ پاک
کر دیتا ہے معطر محمد کا اسمِ پاک

ملنے لگی ہو جیسے مری ذات کو نمو
گویا ہے جامِ کوثر محمد کا اسمِ پاک

اب مل گئی کلید درودوسلام کی
کھولے میرا مقدر محمد کا اسمِ پاک

دنیا کی ظلمتوں میں بھٹکنے نہ دے مجھے
انگلی پکڑ لے اکثر محمد کا اسمِ پاک

جب بھی لیا خدا نے بڑے پیار سے لیا
محبوبِ ربِ داور محمد کا اسمِ پاک

صدیوں نے اس کے ہاتھ پہ بیعت ہے کی ہوئی
ہر دل میں تابہ محشر محمد کا اسمِ پاک

ساگر سے اس کے کوئی تہی دست نہ گیا
جیون کی بھر دے گاگر محمد کا اسمِ پاک

آتش کدہء غم کو گلستاں بنا دیا
سرمستیوں میں لے کر محمد کا اسمِ پاک


آ نے کو ہے حج کا مہینہ، جاگ مقدر جاگ
لوگ چلے ہیں سوئے مدینہ، جاگ مقدر جاگ

سب کے دلوں میں جل اُٹھے ہیں عشقِ نبی کے دیپ
نور کا محور ہے ہر سینہ، جاگ مقدر جاگ

کب تک جیون کی بے سمتی نے بھٹکانا ہے
اب تو اس کو دے دے قرینہ، جاگ مقدر جاگ

موڑ دے میری ہر ساعت کوبس اُس کی جانب
صیقل کر دے ہر آئینہ، جاگ مقدر جاگ

کھا جائے گا رفتہ رفتہ کلجگ کا گرداب
چڑھتی موج پہ دھر دے سفینہ، جاگ مقدر جاگ

اُس کے ذکر سے خالی ہو تو بے کیفی سی ہو
رنگِ سحر نہ بوئے شبینہ، جاگ مقدر جاگ

حشر تلک اُس نام کا سکہ چلنے والا ہے
اُس سے مبرا کوئی صدی نہ، جاگ مقدر جاگ

اُس کی غلامی نے بالآخر تھاما ہاتھ مرا
چڑھنا ہے اب زینہ زینہ، جاگ مقدر جاگ


ہر اک زماں پہ شانِ نظامت کے دستخط
ہم آپ کیا ہیں اُس کی حقیقت کے دستخط

سُن لیتا ہے وہ میری کہی ان کہی سبھی
چاہتا نہیں کسی کی شہادت کے دستخط

ستر شفیق مائوں سے بڑھ کر شفیق وہ
سارے جہان پر ہیں محبت کے دستخط

آزاد ہے وہ ہر اک زمان و مکان سے
سب ساعتوں پہ اُس کی رفاقت کے دستخط

ہر کائنات پر ہیں نئے جستجو کے باب
اور ہر افق پہ تازہ اشارت کے دستخط

ماتھے کے سب نقوش اُسی کی گواہیاں
ہر اک سرِ خمیدہ اطاعت کے دستخط

وہ آپ ڈھونڈ لیتا ہے فائل حیات کی
ہر لمحہ ہیں تلاش میں رحمت کے دستخط

ہر آئینے پہ کھل گیا بابِ قبولیت
ہر اک دعا پہ دیکھے بشارت کے دستخط


تجھ جیسا کوئی تھا نہ کوئی ہے، نہ ہی ہو گا
تو خالقِ یکتا کی ہے اِک کاوشِ یکتا
تو رب کا ہے اِک خاص کرم رحمتِ عالم

سب جزو سمٹ جاتے ہیں جس میں ،تو وہ کل ہے
تو ختمِ رُسل، ختمِ رُسل، ختمِ رُسل ہے
دائم ہے تری ذات کا نم، رحمتِ عالم

تو مکہ مدینہ میں مقید تو نہیں ہے
دریائے محبت پئے سرحد تو نہیں ہے
یہ ساراہی عالم ہے حرم رحمتِ عالم

ہر لمحہ فروزاں تیرے افکارِ جلی سے
ہر دور ہے گلزار اِسی ایک کلی سے
صدیوں پہ ترے نقشِ قدم، رحمتِ عالم

اِک فلسفۂ جذب و وفا ہے یہ ہمارا
جو رب کا ہے پیارا تو وہ پھر سب کا ہے پیارا
تیرے لئے سب لوح و قلم، رحمتِ عالم

ہر ایک مسلمان ترا نعرہ ہے آقا
ایمان ترے نام کا نقارہ ہے آقا
ہم لوگ سبھی تیرے علم، رحمتِ عالم

بے مثل ہے اُمت کے لئے تیری محبت
اِک حشر کے دن تجھ سے ہے امیدِ شفاعت
ہم جیسوں کا رکھے گا بھرم رحمتِ عالم