نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری شاعری

تیرے میرے درمیاں وابستگی کا اک سوال
اُٹھ رہا ہے تو کروں کیا دلبری کا اک سوال

بن نہیں پایا فراتِ عصر سے کوئی جواب
ریت پر لکھا ہوا تھا تشنگی کا اک سوال

منظروں پر راستے چپکا کے اکثر جابجا
مجھ کو بھٹکاتا رہا ہے آگہی کا اک سوال

وہ تو اپنے غم کا بھی پرچہ تھمانے لگ گئے
مجھ سے حل ہوتا نہیں ہے زندگی کا اک سوال

کیوں عبث کرتا ہوں جادہ ناشناساؤں سے میں
سیدھے رستے پر کسی کی کمرہی کا اک سوال

خود کو تج کر میں نے سب کی آرزؤیں پوری کیں
اور جب میں نے کیا اپنی خوشی کا اک سوال

کب سے ہے قلب و نظر میں تیرگی کا زنگ سا
کتنی صدیوں سے ہے میرا روشنی کا اک سوال

کوئی سنتا ہی نہیں ہے سر پٹختی التجا
شور کب سے کر رہا ہے خامشی کا اک سوال

یوں تو وہ جا بھی چکا لیکن درودیوار پر
کر گیا چسپاں نگاہِ آخری کا اک سوال

بھید سارے کھل گئے تھے دیکھتے ہی دیکھتے
اُن کی آنکھوں سے کیا تھا بیخودی کا اک سوال

Advertisements

رہ گیا ہوں پھنس کے یوں سسرال اِس تعطیل میں
جیسے ملزم آ گیا ہو نیب کی تحویل میں

تکتا تھا یوں جیسے نثری نظم منہ پر ماری ہو
مدعا اُس سے بیاں جب بھی کیا تفصیل میں

کچھ نہ کچھ تو ہو گیا ہے ربطِ باہم کو صنم!
آپ گرگٹ بن گئے یا ہو گیا تبدیل میں

ہر کرپٹ نسواربن کر داڑھ کے نیچے پھنسا
آرہے ہیں خان صاحب ڈیل میں نہ ڈھیل میں

لیڈرانِ قوم کی توندیں وسیع ہیں اس لئے
سارا پاکستان ڈالیں عمرو کی زنبیل میں

کیا کہیں یارو اب ایسے الو کے پٹھے کو ہم
’’الو‘‘ کو’’ ابو‘‘ پڑھا ہے جس نے کچھ تعجیل میں

عشق دنیا میں سدا خوار و زبوں رہتا ہے کیوں؟
کیدو کا کیا کام ہیر ورانجھا کی تمثیل میں

بات کر کے دیکھتے اپنے فدائی سے کبھی
خود کو دے دیتا اڑنگی حکم کی تعمیل میں

کرتا ہے پہلو تہی اس سے شریف انسان بھی
جب’’ شرافت‘‘ کا افادہ ہو ذرا تقلیل میں

لے اُڑے شاگرد اب کےمنصبِ استاد بھی
لیڈروں کا ہاتھ ہے شیطان کی تعزیل میں

آپ ہی اپنی اداؤں پر نظر ڈالیں ظفرؔ
یونہی منہا کب ہوئے ہیں زیست کی تعدیل میں


بنا دے بھیجے کی لسی، زنانی ہو تو ایسی ہو
ہماری کھوپڑی مثلِ مدھانی ہو تو ایسی ہو

دکھا کر ایک میزائل کہا ہے ہم نے زوجہ سے
زباں جیسی اگر تم میں روانی ہو تو ایسی ہو

بہ رُوئے حسن بے سہرہ، قبولا جائے سہ بارہ
بدن پرہر چھڑے کے شیروانی ہو تو ایسی ہو

وفا کی رہگزاروں میں اڑنگی باز ہیں سارے
کسی پر دوستوں کی مہربانی ہو تو ایسی ہو

سلوکِ زوجۂ اوّل سے بھی عبرت نہیں پکڑی
مسلسل آرزوئے عقدِ ثانی ہو تو ایسی ہو

لو اس ہفتے کو بھی سسرالیوں کے نام ہے سنڈے
مقدر میں بلائے ناگہانی ہو تو ایسی ہو

سگانِ خوباں دہلائیں، مگر ہم سر کے بل جائیں
سرِ کوئے نگاراں آنی جانی ہو تو ایسی ہو

جو بچہ دیکھے پکچر میں اُسی پر ریجھ کر بولے
ہمارے پیار کی کوئی نشانی ہو تو ایسی ہو

تری بیوٹی سے میک اپ کی تہیں کھرچے، تجھے سمجھے
ترے بھرے میں نہ آئے، جوانی ہو تو ایسی ہو

جھکی رہتی ہیں گھر میں مونچھیں ہیبت خان لالہ کی
کہ اونچا بولنے نہ دے پٹھانی ہو تو ایسی ہو

پئے آتش نشانی فائٹرز کو کال جا پہنچے
سرِ بزمِ سخن شعلہ بیانی ہو تو ایسی ہو


میرا جیون ہے خود میری کہانی سے بھی آگے کا
فسانہ ہوں حیاتِ جاودانی سے بھی آگے کا

زمیں کی قید سے اب تک رہائی مل نہیں پائی
سفر رکھا ہے سقفِ آسمانی سے بھی آگے کا

نہ جانے کیا ہوا کہ پھرکوئی بسنے نہیں پایا
یہ دل ہے اک مکاں تیری نشانی سے بھی آگے کا

کسی کی موت بھی متروک کر سکتی نہیں اِس کو
محبت سلسلہ ہے زندگانی سے بھی آگے کا

خموشی کی زباں کا ترجمہ بھی ہو رہا ہوتا
اگر ابلاغ ہوتا ترجمانی سے بھی آگے کا

بہت سے قرض ہیں اندوہِ انسانی کے بھی تم پر
کبھی سوچا کرو سوزِ نہانی سے بھی آگے کا

تمھاری کال آ تی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں
نشہ رہتا ہے شامِ ارغوانی سے بھی آگے کا

پروں میں باندھ رکھی ہے مسافت خود کو پانے کی
ارادہ ہے فلک کی میہمانی سے بھی آگے کا

ظفرؔ حدِ نظر تک کی بصارت کا فسوں توڑو
تمھیں تو سوچنا ہے لامکانی سے بھی آگے کا


اسلامیوں کا اک نقشِ اسلم
ہونے نہیں دی لو حق کی مدھم
کعبہ میں سربسجدہ تھا ضیغم
فاروقِ اعظمؒ

ایمان دے کر تجھ سے ولی کو
تحفہ دیا تھا رب نے نبی کو
تحریک کر دی کچھ اور محکم
فاروقِ اعظمؒ

بہرِ وفا تھی جاں بر ہتھیلی
ہر جنگ میں تھا آقا کا ساتھی
تیغِ فساں تھی بے چین ہر دم
فاروقِ اعظمؒ

قیصر نہ کسریٰ ٹھہرا مقابل
ہر رن میں تجھ سے ہارا تھا باطل
اسلام کا اک لہراتا پرچم
فاروقِ اعظمؒ

الفاظ بخشے تونے اذاں کو
گویا بڑھا دی قندیل کی لو
تاحشر گونجے گا جس سے عالم
فاروقِ اعظمؒ

انصاف تیرا بے مثل ٹھہرا
تاریخ پر تھا اِک نقش گہرا
گفتار بے لاگ، کردار مبرم
فاروقِ اعظمؒ

کیوں ظلمتوں میں کھویا ہوا ہو
روشن ہمارا بھی راستہ ہو
کچھ لو تمھاری پالیں اگر ہم
فاروقِ اعظمؒ


دِل سے یوں کرنا ہے جذبوں کو تلف
جس طرح کرتے ہیں سنڈیوں کو تلف

عدل کا چھڑکاؤ اِتنا بھی نہیں
ملک سے کر دے جو چوروں کو تلف

سر کا فالودہ بنا سکتے ہیں آپ
کر نہیں سکتے ہیں سوچوں کو تلف

لو مرا بھی رول نمبرآ گیا
عشق نے کرنا ہے کتنوں کو تلف

بھر دیا ہے توند کے تنور کو
کر دیا ملا نے مرغوں کو تلف

مرحبا خاصی صفائی ہو گئی
کر دیا اندھوں نے کانوں کو تلف

سرفروشی میں ہیں یکتا زن مرید
کر دیا ہے گھر سے چوہوں کو تلف

قیس کو کرنے کا ٹھیکہ مل گیا
کوچۂ لیلیٰ سے کتوں کو تلف

کیوں بجنگ آمد کوئی کرنے لگا
توپ کے گولوں سے مکھیوں کو تلف

گیسوئوں کو گہری سوچوں سے بچا
ٹڈی دل کر دے گا فصلوں کو تلف

کاش ووٹر آپ ہی کرنے لگیں
لیڈروں کے سبز باغوں کو تلف

تو ظفر کیا چیز ہے کہ وقت نے
کر دیا ہے اچھے اچھوں کو تلف


سب حریصانِ اقتدار و زر
ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں

قوم دھوکہ نہ کھائے گی ہرگز
یہ سیاست کے ریلو کٹے ہیں