نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری شاعری

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا
کب سے ہے فریزر میں جمایا ہوا بکرا

کیوں سینگوں پہ رکھا ہے مجھے بیچ سڑک پر
کیا جانئیے کس بات پہ ’’اوکھا‘‘ ہوا بکرا

آجائے گا قربانی کے بھی کام یقیناً
سیلفی کے لئے خاص خریدا ہوا بکرا

دیدار کو آیا ہے یا دیدار کرانے
پنکی کے لئے پنک سا رنگاہوا بکرا

لیڈر بھی مقلد نہیں یوں ’’میں میں ازم‘‘ کا
قربانی کے دن بھی کہاں چُپکا ہوا بکرا

کیا جانئیے کس کس کے مقدر میں لکھا ہے
تکوں میں کبابوں میں بکھیرا ہوا بکرا

قربانی محلے میں تو دی ہوتی ہے سب نے
مل سکتا ہے واپس بھی یوں بانٹا ہوا بکرا

اب مالی پوزیشن ہی کچھ ایسی ہے کہ اس سے
لے سکتے ہیں کاغذ پہ بنایا ہوا بکرا

ڈھو پائے گا مجھ کو، میرے اعمال کو کیسے
واقف نہیں جنت کو سدھارا ہوا بکرا

Advertisements

سیاستدانوں کو بھگتا رہی ہے
ہماری قوم چچڑ باز ٹھہری
یہ کانگو وائرس کیا بیچتا ہے


اک داغِ ہجر یوں دلِ مضطر میں پڑ گیا
جیسے کوئی شگاف سمندر میں پڑ گیا

دیکھا ہے کس نظر سے کہ دھندلا گیا ہوں میں
کیسا یہ قفل اُس کے کھلے در میں پڑ گیا

جب بھی مری مہارتیں ناوک فگن ہوئیں
دیکھا ہد ف تو میرے ہی پیکر میں پڑ گیا

اک آگہی تھی جس نے مجھے سونے نہیں دیا
اک درد تھا جو دل کے شناور میں پڑ گیا

کام آ سکا نہ میری اُڑانوں کا بانکپن
یونہی میں خودبخود کسی منظر میں پڑ گیا

کس لمس کے گلاب نے یوں گدگدا دیا
اِک دھڑکنوں کا سلسلہ پتھر میں پڑ گیا

اک خواب تھا جو نیندیں اُڑا لے گیا ظفر
اک لمحہ تھا جو عرصہء محشر میں پڑ گیا


خواب سچے میرے ہو کر نہیں دیتے ہیں ہنوز
صبح کے وقت بھی دیکھا ہے اُسے خوابوں میں


ہم نے لیڈر بنا دیا ہے اُسے
جو ذرا آدمی بھی کم کم ہے


شاعری کہہ رہی تھی مجھ سے ظفر
شعر میں کچھ نیا ہی فرمائیں

اور بیوی کی آ رہی تھی صدا
جا کے دودھ اور دہی تو لے آئیں


ہو پنامہ کا فیصلہ جیسے
اُس نے مکھڑے کو یوں چھپایا تھا