نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: سیاہ۔سیات

دوحہ……وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ آج کا پاکستان تین سال پہلے کے پاکستان سےبہت بہتر ہے ،”اور اس بہتری کو ہمارے ذاتی اثاثوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بہتر سے بھی آگے کی کوئی شے لگے گی” یہ ہم نہیں کہتے لوگ کہتے ہیں،”اب اگر اِن لوگوں کا تعلق مسلم لیگ (نون) کے اعلیٰ عہدیداروں یعنی میاں خاندان کے قریبی رشتہ داروں سے ہے تو یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں” عالمی بینک کے صدر بھی پاکستانی معیشت میں بہتری کو سراہتے ہیں ،”اور وہ پاکستان کی معیشت کو یونہی نہیں سراہتے بلکہ اس سلسلے میں اکثر پاکستان تشریف لاتے رہتے ہیں تاکہ ترقی کے اُن ثمرات سے مستفید ہوا جا سکے جو پاکستان کے لوگوں کا مقدر بن گئے ہیں لیکن یہاں کی ناسمجھ اور جاہل عوام کو اس کی کیا خبر” امن و امان بھی بہتر ہے۔ "اس بہتری کے مظاہرے روزانہ خود کش دھماکوں اور وارداتوں کی شکل میں اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔”

وزیراعظم نواز شریف کا قطر میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کراچی کے حالات پر وہاں کے لوگوں سے پوچھیں بہتری آئی ہے، "لیکن خدا کرے کہ اس بہتری کا رُخ پنجاب کی سمت نہ ہو جائے ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں” آپریشن ضرب عضب کو بھی منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔”اگرچہ اس کام کو افواجِ پاکستان سرانجام دے رہی ہیں لیکن پھر بھی اس کے سہرے کے لئے یہ سر حاضر ہے، کیونکہ کسی اور سہرے کی اجازت تو گھر والی دینے سے رہی۔”

وزیراعظم نے کہا ہےکہ پی آئی اے ملازمین نے ہڑتال ختم کردی ہے اب انہیں کہا ہےکہ ادارے کی بہتری کے لیے کام کریں،” جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اُنہیں ہڑتال پر مجبور کر کے ادارے کی بہتری کے مواقع فراہم کئے ہیں۔” قطر سے دوطرفہ تجارت کو ایک ہزار ملین ڈالرز تک لے جائیں کے ،”تین طرفہ تجارت یعنی بھارت کو بھی اس میں شامل کرنے کے لئے ہم نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے لیکن نریندر مودی کا کہنا ہے کہ "بن بھجن گائے تو مندر سے ٹکا ملتا نہیں” میں تو بھجن بھی گانے کو تیار ہوں لیکن پاکستانی عوام ہی ہمنوائی پر آمادہ نہیں” ایل این جی کی درآمد سے ملک کو سستی بجلی ملے گی، ہم نہ صرف بجلی کی قلت ختم کررہے ہیں بلکہ اس کی قیمت بھی کم کررہے ہیں ۔”اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو شہباز شریف کی جانب سے بیان جاری کر دیا جائے گا کہ اس کو "نواز شریف کی زورِخطابت سمجھا جائے۔”

اُنہوں نے کہاکہ گذشتہ حکومتوں نے بجلی کے معاملات پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ بحران نہ ہوتا،”چنانچہ ہم نے آتے ہی اس پر توجہ دی ہے اور اس کے مثبت نتائج عظیم الشان لوڈ شیڈنگ کی صورت میں عوام الناس کے سامنے ہیں” آج معاشی اشاریے بہتری کی طرف ہیں اور اس کااعتراف ورلڈ بینک کے صدر نے بھی کیا ہے۔ "بعض بےسُرے لوگ مہنگائی کا راگ الاپتے رہتے ہیں، اُن جاہلوں کو کیا علم کہ ترقی کیا ہوتی ہے اور ورلڈ بینک کے صدر کا اعتراف کتنی اہمیت کا حامل ہے” وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ معیشت میں بہتری کے ساتھ امن و امان کی صورتحال بھی مزید بہتر ہوگی ۔ "اور اس کے لئے آپ کو میری حکومت کو مزید کئی دھائیوں تک برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ اپنی مدد کے تحت ہم نے الیکشن کے نتائج کو اپنے حق میں کرنے کا خود ہی انتظام کر رکھا ہے چنانچہ اگر عوام صبرِ صمیم سے کام لیتے رہے تو انشاءاللہ حمزہ شہباز کے علاوہ حسن نواز بھی اپنا کاروبار چھوڑ کر پاکستان آ جائے گا اور مزید بہتر کاروبار یعنی سیاست پر اپنی جملہ توجہ مرتکز کر لے گا۔”

————–
نویدظفرکیانی
————–

Advertisements

طاہرالقادری کے دھرنے میں
رک گئی ہے بارات رستے میں

وہ بھی مُکّا دِکھا کے بات کریں
پارٹی جن کی آئے ٹانگےمیں

مارشل لا کی جستجو کے ساتھ
انقلابات بھی ہیں چہونگے میں

اب کہاں وہ پرانا شیخ رشید
شیخیاں رہ گئی ہیں شیخےمیں

کچھ شریفوں میں اِس قدر بھی نہیں
جوشرافت ہے اب شریفےمیں

کتنی ڈیٹوں کا اہتمام رہا
آج عمران خاں کے جلسے میں

ثالثی میں پڑےسراج الحق
یاپڑے کوئلےکے دھندے میں

فضل الرّحمٰن مضطرب ہے بہت
بوٹیاں ڈھونڈتا ہے ڈونہگے میں

چپ چپیتاہے یوں تو زرداری
دودھ کی آرزو ہے بلے میں

ہو چکے راکھ سرحدی گاندھئ
بل ابھی تک وہی ہے رسّے میں

زورِ الطاف بھائی ہیل ای اوئے
بولتے ہیں نشے کے جھونکے میں

آمریت دکھائی دیتی ہے
آج جمہوریت کےحلئے میں

کھیل ٹھہرا یہ لیڈروں کا مگر
گردنِ قوم تو ہے ٹوکے میں


بلب جلتے نہیں ہیں جانے کیوں؟
پی ٹی آئی کی کوئی سازش ہے
پنکھے چلتے نہیں ہیں جانے کیوں؟
طاہر القادری کی بندش ہے
—-
یہ اندھیرے تو جھوٹ بکتے ہیں
لوڈ شیڈنگ تو ہو نہیں سکتی
لوگ کیوں احتجاج کرتے ہیں
قوم پر آ گئی ہے کیا سختی؟
—-
لوڈ شیڈنگ ہو کس طرح پیارے
لوڈ شیڈنگ کے باب میں تو میاں
یہ الیکشن میں دے چکے ہیں بیاں
چھ مہینوں میں ہم مُکا دیں گے
—-
آپ ہیں کس خیال میں حضرت !!!
اُن کے اب مقتدر تو ہونے کی
دو برس سے بھی بڑھ چکی مدت
لوڈ شیڈنگ تو مُک گئی ہو گی
—–
بلب جلتے نہیں ہیں جانے کیوں؟
پنکھے چلتے نہیں ہیں جانے کیوں؟


 

حکومت کا تختہ جلد الٹے گا، میرا جہاز ہائی جیک کیاگیا، انتقام لوں گا، طاہرالقادری

لاہور(نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ نواز شریف نے طیارے کو ہائی جیک کیا، ان کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے ” اس سلسلے میں نواز شریف کو میرا شکر گزار ہونا چاہئیے کہ میں نے بات محض انتقام لینے تک محدود رکھی ہے حالانکہ پرویز مشرف نے تو اس جرم میں نواز شریف حکومت کا تختہ ہی دھرن کر ڈالا تھا۔” انھوں نے کہا کہ شہدا کے خون کا انتقام لوں گا، ” ظاہر ہے کہ جب میں نے اُن کی شہادت کا اہتمام کر دیا ہے تو اب اُس کا بدلہ لینے کا حق بھی میرا ہی بنتا ہے” اُنہوں نے کہا کہ میں غریبوں کی جنگ لڑنے آیا ہوں، ” اور غریبوں کے لئے میرے خلوص کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ میں نے اس پروجیکٹ پر اربوں روپے لگا دئے ہیں”  اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا جلد تختہ الٹے گا، حکمراں مجھے گولیوں سے چھلنی کرسکتے ہیں انقلاب سے نہیں روک سکتے، ” کیونکہ میرا کام ہی انقلاب لانا ہے اس ضمن میں لوگوں کو میرا گزشتہ دورہ یاد ہی ہو گا”  اُنہوں نے کہا کہ کرپشن کےخاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ ” ہاں اس ضمن میں مجھ سے باز پرس مت کی جائے کہ میرے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے” طاہر القادری جناح ہسپتال میں زخمی کارکنوں کی عیادت اورمنہاج القران مرکز پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون نے ہٹلر اور مسولینی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ نواز شریف ہٹلر، شہباز شریف مسولینی اور قاتل اعلیٰ پنجاب ہیں "اور اس دریافت کا سہرہ بھی میرے سر جاتا ہے کیونکہ بیک وقت پاکستان کو اٹلی اور جرمنی کی خصوصیات کی دریافت کرنا میرے ریسرچ کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے”۔ ذرائع کے مطابق طاہر القادری زخمی کار کنوں کی عیادت کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور زخمی کارکنوں کے ہاتھ چومتے رہے، انھوں نے کئی کارکنوں پر دم بھی کیا "اور یہ فن "دم مارو دم” انہوں نے اپنے دورہ یورپ میں سیکھا تھا جس کا شاندار مظاہرہ "یو ٹیوب” پر پہلے ہی سے موجود ہے”۔دریں اثناء جناح ہسپتال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہاکہ زخمیوں کے خون کا عدل کے ذریعے حساب دینا ہوگا ” اور تاوان میرے اکاؤنٹ میں براہ راست ڈیپازٹ کروانا ہو گا”۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کے خون کاانتقام لوں گا۔ اس وقت تک یہاں سے نہیں جائوں گا‘ جب تک غریبوں کا مقدر نہ بدل جائے۔ "یعنی اقتدار کی مجھ تک منتقلی نہ ہو جائے”  اُنہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں نے خون کا نذرانہ دیا ہے ” اور پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے جب کہ پہلے وہ صرف یہ نذرانہ نوٹوں کی صورت ہی دیا کرتے تھے تاہم ان کا یہ نذرانہ بھی خاصا منافع بخش ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے۔ پاکستان کی 65 سال کی تاریخ میں اس ظلم کی مثال نہیں ملتی "بیشک میرے متعلق ہر شے مثالی ثابت ہو گی۔”  انہوں نے کہا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق پاکستان آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے لاہور میں آنا تھا۔ حکومت بتائے کہ انہیں کس چیز کا خوف تھا "اگرچہ مجھے علم ہے کہ پرویز مشرف کے مارشل کے تجربے کے بعد اب شریفین سانپ تو سانپ رسی سے بھی دہل جاتے ہیں حالانکہ میں تو رسی کی ایک ڈوری کے برابر بھی نہیں ہوں۔”


ضرورت پڑی تو شہید ہونے کیلئے بھی تیار ہوں، ڈاکٹر طاہر القادری
———————————————————-

لندن (رپورٹ؍مرتضیٰ علی شاہ) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ حکومت میری پاکستان آمد سے خوف زدہ ہے،ا ور پورے پنجاب میں ہمارے کارکنوں کیخلاف کریک ڈائون شروع ہوگیا ہے ” اور جو کارکن اس کریک ڈاؤن سے بچ گئے ہیں وہ کریک ہو کر پولیس کے تھوبڑوں کو کریک کرنے میں مشغول ہو گئے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان جائینگے، جو ان کے خیال میں اپنا وجود نہیں رکھتی "اور یہ ایک محیر العقول کام ہوگا کہ جو چیز اپنا وجود ہی نہیں رکھتی وہ اُس جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لئے اتنی دور سے تشریف لائے ہیں”۔ اتوار کی دوپہر کو دبئی کے راستے پاکستان روانگی سے پہلے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ پولیس نے ہماری ہزاروں کارکنوں کو غیر قانونی طورپر گرفتار کرلیا ہے۔ ہزاروں لوگ میرے استقبال کے لیے اسلام آباد ائر پورٹ آنا چاہتے ہیں اور بہتر پاکستان کے یے میرے انقلابی ایجنڈے کو خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں ” لیکن یہ میرے کارکنوں کا کمال ہے کہ وہ گرفتار ہو کر بھی اسلام آباد ائر پورٹ پر پہنچ گئے ہیں اور اب میرے استقبال کے لئے پولیس کے جوانوں کی سروں کی سُرخیوں کی سلامی پیش کرتے پھر رہے ہیں۔” حکومت سرکاری مشینری استعمال کرکے میرے حامیوں کے حقوق غصب کررہی ہے، حالاں کہ میرے حامی صرف آزادی اظہار کا جمہوری حق استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں اپنا جمہوری حق استعمال کرنے کی سزا دی جارہی ہے "اسی آزادئی رائے کے جمہوری حق کے سلسلے میں نہ صرف وہ پولیس والوں کے ساتھ "آنکھ مچولی” کھیل رہے ہیں بلکہ کراڑ تھانے میں جا کر تو انہوں نے پولیس کے اُن جوانوں کا بھی محاسبہ بھی کیا ہے جو اس میچ کے لئے باہر تشریف لانے میں تساہل برت رہے تھے” ہتھیرو ائر پورٹ پر ’’دی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا اگر ضرورت پڑی تو میں شہید ہونے کے لیے بھی تیار ہوں،” لیکن خدا نہ کرے کہ ایسا ہو ۔ شہید ہونے کے لئے کیا کارکنوں کی فوج کم ہے؟ یوں بھی لیڈر حضرات شہید ہونے کے بجائے "غازی” رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ میں دہشت گردی سے نبرآزما پاک فوج کو سپورٹ کرنے کیلئے پاکستان جانا چاہتا ہوں، ” اور یہ کام کینیڈا میں بیٹھ کر ممکن نہیں تھا اس کے باوجود کہ میں کینیڈا بیٹھ کر گھنٹوں پاکستان میں کارکنوں سے خطاب کرتا رہتا ہوں لیکن آخر پروٹوکول بھی تو کوئی شے ہے” انہوں نے کہا کہ میں اقتدار کا بھوکا نہیں ہوں، مجھے وزارتیں یا پیسہ نہیں چاہیے، مگر حکومت آمریت کا مظاہرہ کررہی ہے ” اس سے بڑھ کر اور آمریت اور کیا ہو گی کپ جو اقتدار کا بھوکا نہ ہو اُسے اقتدار پیش کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کیا جائے۔ بھلا میں مذاق میں بھی "شریفین کی اقتدار کی دعوت قبول کر سکتا ہوں بھلا ۔۔۔۔ میرا اُن سے مذاق کا رشتہ تو ہے ہیں نہیں” انہوں نے کہا کہ ہمارے مراکز بند کردیے گئے ہیں اور ہمارے رضاکار اغوا، گرفتاری اور تشدد کا شکار ہیں "حالانکہ ہمارے تمام گُلوبٹ یہ کام خود کرنا چاہتے تھے۔” ڈاکٹر طاہرالقادری نے پاک فوج سے صورتحال کا نوٹس لینے اور اس معاملے میں دخل انداز ہونے کی اپیل کی ہے ” اور اس سلسلے میں ماضی کی اصغر خان کی مثال کو سامنے رکھنے کی نصیحت بھی کی ہے” ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں، لیکن مجھے بھی اپنی پروا نہیں، ” لیکن میری کسرِ نفسی کو سمجھا جائے اور میری سیکیورٹی کے لئے زمین آسمان ایک کر دیا جائے” انہوں نے کہا کہ میرے کارکنوں پر حملے اور تشدد کو روکا جائے، ہمیں امن پسند ہونے کی سزا دی جارہی ہے ” اور اب تو ہمارے کارکنوں نے راولپنڈی میں اپنے امن پسند ہونے کا مکمل ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے”۔ ڈاکٹر قادری نے ’دی نیوز‘ کو اپنا پاکستان پاسپورٹ اور نائیکوپ کاشناختی کارڈ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں پیدائشی پاکستانی ہوں، مجھے اپنے ملک میں سیاست کرنے کا حق حاصل ہے، حکمراں میراراستہ نہیں روک سکتے ” جیسا کہ وہ اوباما کا راستہ نہیں روک سکتے جو پاکستان میں پاکستانی سیاست دانوں سے زیادہ پاکستانی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں”۔


عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں عوام ناکام بنادیں گے،  نواز شریف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور(ایجنسیاں)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش عوام ناکام بنادیں گے۔ "اور اس کے لئے "عوام” کو ڈنڈوں اور شیلڈز سمیت احتجاجیوں کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے کہ وہ ماڈل ٹاؤن وقوعہ کے تاوان کے لئے خود کو پیش کر دیں۔ اس سلسلے میں خاصی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ درجنوں "عوام” ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔” انہوں نے کہا ہے کہ دھرنے اور احتجاج کرنے والے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں ” اور اس کی مبینہ عوام دشمنی کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو گا کہ وہ ملک کے دو شریفوں سے استعفٰی کے لئے کہہ رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف آپریشن کو پوری قوم کا تعاون حاصل ہے، ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو گا اور حقیقی امن عوام کا مقدر بنے گا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں، ذمہ دار کسی بھی صورت سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔” اس سلسلے میں بہت سے قربانی کے بکرے تیار کئے جا چکے ہیں جو حکمرانوں کا صدقہ اُتارنے کا مقدس فریضہ سر انجام دیں گے۔”مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق اتوار کو وزیراعظم نوازشریف سے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلی پنجاب نے وزیر اعظم کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہونیوالی اب تک کی پیش رفت اور تحقیقات کے بارے میں بریفنگ دی ” اور جوش خطابت کا مظاہرہ کرتے ہوئےمزید حماقتوں کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا” جس پر وزیراعظم نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ذمہ داروں کو ہر صورت سامنے لا کر ان کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ” اور اگر انصاف اور قانون واقعی انصاف پر اُتر آئیں تو پھر اپنے لازوال صلاحیتیوں کو استعمال کر کے ہمیشہ کی طرح قانون کی موم سے بنی ہوئی ناک کا موڑنے کا مظاہرہ کیا جائے اس کے لئے "چھانگا مانگا” کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے”جبکہ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جاری آپریشن میں ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے اور سب کو ملکر پاک افواج کا ساتھ دینا ہو گا ” جیسا کہ ہم نے بہ امر مجبوری ایسا کیا ہے ورنہ طالبان سے "لُکن مٹی” کا تو سواد ہی جدا تھا۔”دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات کے موقع پر وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ کی پنجاب حکومت کی نیک نامی پر دھبہ لگانے والوں کو جلد از جلد بے نقاب کیا جائے، بعض عناصر کو موجودہ حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور توانائی بحران کے خاتمہ کے لئے اٹھائے گئے انقلابی اقدامات ہضم نہیں ہو رہے اور عوام اس سے آگاہ ہیں ” کہ اس کو ہضم کرنے کے لئے کس قسم کی پھکی استعمال کی جاتی ہے اور یہ کہ یہ پھُکی "ڈاکٹر” سے نہیں صرف صرف "حکیم” سے دستیاب ہے۔” وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور آئی جی پنجاب نے ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی کے بعد بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور آمد کے موقع پر حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اس سلسلہ میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں گے "اور اس سلسلے میں ہم نے "عوام” کو گلو بٹ کی خدمات بھی تقویض کر رکھی تھیں جن سے وہ آئندہ بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں”۔


اُڑنے کو ہے ایک جہاز کنیڈا سے
کنٹینر والی سرکار کی آمد ہے

بائیس جون کو حشر سے ڈیٹنگ ٹھہری ہے
چیختے چلاتے اخبار کی آمد ہے

دامانِ صد چاک کے دیدے پھیلے ہیں
اہلِ جبہ و دستار کی آمد ہے

امپوٹڈ لیڈر کی بڑھکیں جاری ہیں
مولا جٹ جیسے فنکار کی آمد ہے

نورے سے ہیں نورا کشتی کی باتیں
ہتھ جوڑی کو جوڑی دار کی آمد ہے

ایرے غیرے نتھو خیرے دور دفع
قوم کے نمبر ون غمخوار کی آمد ہے

شور مچاتے زور دکھاتےہیں چیلے
اِن کے گُروِ ذی وقّار کی آمد ہے

تبدیلی کا من و سلویٰ اُترے گا
یہ مت سمجھو کہ بیکار کی آمد ہے

آج تو لگتا ہے یہ اپنا پاک وطن
بھوت نگر ہے اور اشرار کی آمد ہے

اس کی باتوں اور گھاتوں سے لگتا ہے
اینی میٹڈ سے کردار کی آمد ہے

دین کو موم کی ناک بنا کر رکھا ہے
مفتیء مشکوک افکار کی آمد ہے

دنیا داری کے پیچھے بولائے ہوئے
وکھری ٹائپ کے دیں دار کی آمد ہے

جس دھرتی میں رہنا بھی منظور نہیں
اُس میں شیخِ طرحدار کی آمد ہے

چاکنگ سے ہیں شہر کی دیواریں کالی
اِیک طہارت کےشہکار کی آمد ہے

دولت اپنا آپ دکھاتی پھرتی ہے
ملک میں درہم و دینار کی آمد ہے

رونق میلہ خوب سجے گا دھرنوں کا
یعنی گرمئی بازار کی آمد ہے

تقریں بھی ہوں گی نعرے بھی ہوں گے
ملک میں پھر سے ہاہاکارکی آمد ہے

لفاظی یوں اُن کے لبوں سے جھڑتی ہے
جیسے شاعر پر اشعار کی آمد ہے

اللہ اللہ اِن کی گرج اور اِن کی چمک
ٹھنڈے دیس سے اِک انگار کی آمد ہے

مُشتِ خاک سے بڑھ کر تو اوقات نہیں
لیکن لگتا ہے بمبار کی آمد ہے

اہلِ وطن کے” بارہ” بجنے والے ہیں
ارضِ وطن میں اک "سردار” کی آمد ہے

لاشوں کے زینوں پر چڑھنا سیکھ لیا
کُرسی کے ازلی بیمار کی آمد ہے

پہلے بھی وہ جیسے آئے ویسے گئے
تو کیا ویسی ہی اِس بار کی آمد ہے