ابھی دِن ڈھلا ہے، ابھی شام کے سائے گہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے
ابھی تک فضاؤں میں بکھری ہوئی ہے دھنک آرزو کی، اُفق تا اُفق
ابھی سب کو مبہوت کرتے ہوئے رنگوں والی کئی تتلیاں اُڑتی ہیں
چمن در چمن جادو کرتی ہوئی خوشبوؤں کی کئی ٹولیاں پھرتی ہیں
ابھی تک ہے دامانِ آفاق روشن، ابھی تک یہاں پھوٹتی ہے شفق
ابھی تک نہیں جستجو ماندہ پا، بارِ سر کو اُٹھائے ہوئے ہے عُنق
ابھی خواب زندہ ہیں اور سارے ہی زندہ لوگوں کی آنکھوں میں بیدار ہیں
قدم اُٹھ رہے ہیں،ابھی قافلے والے ٹھہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے
۔۔۔۔
ابھی راستے زندگی کی توانا صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں، سنو!
ابھی تو تمنا غبارِ رہِ شوق میں کھو نہیں پائی ہے، میری جاں!!
کسی پردۂ چشم پر جمنے پایا نہیں ہے سلگتے سمے کا دھواں
اندھیروں کے اژدر نے نگلے نہیں کائناتِ یقیں کے زمین و زماں
فضا سرمگیں ہوتی جاتی ہے لیکن نظر آ رہا ہے ابھی آسماں
اجالوں کی نگری کے رستوں پہ ظلمت کے پہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے