لیلیٰ کا بڑا تم سے ہے مجنون مڑا
تم قیس ہے تو ام بھی ہے پختون مڑا

نعمت کدۂ دہر میں ممکن ہی نہیں
نسوار سے بڑھ کر کوئی معجون مڑا

محبوب ہو دس بیس سا پر ایک ہی ہو
بھاتا نہیں ہر سیٹھ کو پرچون مڑا

’’تبدیلی‘‘ ابھی ہے ترا کچا خانا!
احساس کی سیخوں پہ اسے بھون مڑا

بھوکا کبھی ہوتا ہوں تو جی اُٹھتا ہے
ام میں کوئی فنکار ہے مدفون مڑا

وہ ’’جاز‘‘ کا ریچارج بجا مانگتا ہے
کنگال ہوا عشق میں قارون مڑا

ازخود تو کبھی میل نہیں جا سکتا
بوتھے پہ ملا کرتے ہیں صابون مڑا

بھنبھوڑنے کا شوق جو بھارت کو رہا
کر لے گا ہڑپ خود کوبہت سون مڑا

ام نے تو سدا پیار سے بولا ہے ’’کنا‘‘
نچلا نہ کبھی بیٹھا وہ پتلون مڑا

کمزوروں کو بے جرم بھی دھر لیتا ہے
لونڈی ہے زبردستوں کا قانون مڑا

پشتو میں جو لکھا ہے مرے’’ دا جی‘‘ نے
دھمکیلا ہے کیا عرضی کا مضمون مڑا

خانم سے مرا بات نہیں ہو پاتا
کیوں رانگ ہی ملتا ہے سدا فون مڑا

وہ سیدھا ہے تو ام بھی ہے ریشم جیسا
ٹیڑھا ہے تو ام اُس سے بھی ہے دُون مڑا

اپنا ہے وہاں کون سا بی بی شیریں
بزنس کے لئے جاتا ہے رنگون مڑا

پشتونوں میں پشتو کے چلیں گے وٹے
ہو گا نہ جدا ماس سے’’ ناخون‘‘ مڑا

میں کہتا تھا ظالم کے رُخِ روشن کو
لگتا تھا اُسے گنج مرا ’’مون‘‘ مڑا

میٹر جو مرے خان کا گھوما ہوا ہے
’’ب‘‘ جیسا ہے لملیٹ ہر اک ’’ن‘‘ مڑا

تن فن کے لکھا ہم نے بھی دس بیس غزل
مارا جو ترا یاد نے شبخون مڑا

بونگی سے تروپا کبھی ’’چولوں‘‘ سے سیا
اُدھڑا ہے مرے فن کا جہاں اُون مڑا

بیٹھا ہے مرے ووٹ سے ممبر بن کر
یا پھر ہے اسمبلی میں کوئی ژُون مڑا

کیا مرد ہے یہ شہر کا بابو، اِس سے
تگڑا ہے مرے ملک کا خاتون مڑا

مردان کا ہے خون بدن میں شائد
رہتا ہے دسمبر میں بھی وہ جون مڑا

میں جیسا بتاتا ہوں وہی بولا کر
یونہی نہ لگا اس پہ مرچ لون مڑا

وہ رانگ ہی نمبر پہ مجھے کال کرے
ہو جائے دعا میرا بھی مسنون مڑا

یہ جنس تو نایاب سی لگتی ہے ظفرؔ
انسان کا ملتا نہیں خبرون مڑا