بنا دے بھیجے کی لسی، زنانی ہو تو ایسی ہو
ہماری کھوپڑی مثلِ مدھانی ہو تو ایسی ہو

دکھا کر ایک میزائل کہا ہے ہم نے زوجہ سے
زباں جیسی اگر تم میں روانی ہو تو ایسی ہو

بہ رُوئے حسن بے سہرہ، قبولا جائے سہ بارہ
بدن پرہر چھڑے کے شیروانی ہو تو ایسی ہو

وفا کی رہگزاروں میں اڑنگی باز ہیں سارے
کسی پر دوستوں کی مہربانی ہو تو ایسی ہو

سلوکِ زوجۂ اوّل سے بھی عبرت نہیں پکڑی
مسلسل آرزوئے عقدِ ثانی ہو تو ایسی ہو

لو اس ہفتے کو بھی سسرالیوں کے نام ہے سنڈے
مقدر میں بلائے ناگہانی ہو تو ایسی ہو

سگانِ خوباں دہلائیں، مگر ہم سر کے بل جائیں
سرِ کوئے نگاراں آنی جانی ہو تو ایسی ہو

جو بچہ دیکھے پکچر میں اُسی پر ریجھ کر بولے
ہمارے پیار کی کوئی نشانی ہو تو ایسی ہو

تری بیوٹی سے میک اپ کی تہیں کھرچے، تجھے سمجھے
ترے بھرے میں نہ آئے، جوانی ہو تو ایسی ہو

جھکی رہتی ہیں گھر میں مونچھیں ہیبت خان لالہ کی
کہ اونچا بولنے نہ دے پٹھانی ہو تو ایسی ہو

پئے آتش نشانی فائٹرز کو کال جا پہنچے
سرِ بزمِ سخن شعلہ بیانی ہو تو ایسی ہو

Advertisements