اسلامیوں کا اک نقشِ اسلم
ہونے نہیں دی لو حق کی مدھم
کعبہ میں سربسجدہ تھا ضیغم
فاروقِ اعظمؒ

ایمان دے کر تجھ سے ولی کو
تحفہ دیا تھا رب نے نبی کو
تحریک کر دی کچھ اور محکم
فاروقِ اعظمؒ

بہرِ وفا تھی جاں بر ہتھیلی
ہر جنگ میں تھا آقا کا ساتھی
تیغِ فساں تھی بے چین ہر دم
فاروقِ اعظمؒ

قیصر نہ کسریٰ ٹھہرا مقابل
ہر رن میں تجھ سے ہارا تھا باطل
اسلام کا اک لہراتا پرچم
فاروقِ اعظمؒ

الفاظ بخشے تونے اذاں کو
گویا بڑھا دی قندیل کی لو
تاحشر گونجے گا جس سے عالم
فاروقِ اعظمؒ

انصاف تیرا بے مثل ٹھہرا
تاریخ پر تھا اِک نقش گہرا
گفتار بے لاگ، کردار مبرم
فاروقِ اعظمؒ

کیوں ظلمتوں میں کھویا ہوا ہو
روشن ہمارا بھی راستہ ہو
کچھ لو تمھاری پالیں اگر ہم
فاروقِ اعظمؒ

Advertisements