دِل سے یوں کرنا ہے جذبوں کو تلف
جس طرح کرتے ہیں سنڈیوں کو تلف

عدل کا چھڑکاؤ اِتنا بھی نہیں
ملک سے کر دے جو چوروں کو تلف

سر کا فالودہ بنا سکتے ہیں آپ
کر نہیں سکتے ہیں سوچوں کو تلف

لو مرا بھی رول نمبرآ گیا
عشق نے کرنا ہے کتنوں کو تلف

بھر دیا ہے توند کے تنور کو
کر دیا ملا نے مرغوں کو تلف

مرحبا خاصی صفائی ہو گئی
کر دیا اندھوں نے کانوں کو تلف

سرفروشی میں ہیں یکتا زن مرید
کر دیا ہے گھر سے چوہوں کو تلف

قیس کو کرنے کا ٹھیکہ مل گیا
کوچۂ لیلیٰ سے کتوں کو تلف

کیوں بجنگ آمد کوئی کرنے لگا
توپ کے گولوں سے مکھیوں کو تلف

گیسوئوں کو گہری سوچوں سے بچا
ٹڈی دل کر دے گا فصلوں کو تلف

کاش ووٹر آپ ہی کرنے لگیں
لیڈروں کے سبز باغوں کو تلف

تو ظفر کیا چیز ہے کہ وقت نے
کر دیا ہے اچھے اچھوں کو تلف