ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے
لہو میں گھل کے بھی وہ ذائقہ نہیں دیں گے

ہماری خبروں میں ہر روز آئیں گے ظالم
بنیں گے سرخی مگر حاشیہ نہیں دیں گے

تعلقات کو یکسر ہی توڑ ڈالیں گے
ہمیں تو شک کا بھی وہ فائدہ نہیں دیں گے

تمھاری خوشبو بھٹکنے نہ دے گی ہم کو کبھی
یہ راستے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں دیں گے

لہو میں جیسے بھنور بن گئے ہوں ہجر کے غم
مفر کو اور کوئی مسئلہ نہیں دیں گے

گزرتے جاتے ہیں چپ چاپ ابر کے ٹکڑے
یہ میری پیاس کو کیا حوصلہ نہیں دیں گے؟

وہ مشکلات میں رکھیں گے مبتلا ہم کو
سفر تو دیں گے مگر راستہ نہیں دیں گے

ترے خیال کے منظر کا حصہ بن کے بھی
سکوتِ شب کو نیا زمزمہ نہیں دیں گے

ہم اپنی قبر میں کر دیں گے دفن خود کو ظفرؔ
کسی کے ہاتھ میں اب تعزیہ نہیں دیں گے