میں شائد سو گیا تھا ریل گاڑی میں
—–
نہ جانے کس نگر سےتھا
گزر میری مسافت کا
مرے اطراف میں رنگوں کی یورش تھی
کھلے تھے پھول ہرہر رنگ کے ہر سو
عجب چہکاریں پھیلی تھیں
بہت سی تتلیاں اور بھنورے منڈلاتےدکھائی دے رہے تھے دور تک مجھ کو
کھلی تھیں کھڑکیاں
اور تازہ خوشبو سے معطرتھیں ہوائیں بھی
سو ایسے میں مجھے بھی نیند سی کچھ آ گئی تھی تو عجب کیا تھا
—–
کھلی تھی آنکھ میری شور کی آواز پر
میں ہڑبڑا کر ہو گیا سیدھا
تو آخر آ گیا تھا میرا اسٹیشن
مسافر اور قلی دوڑتے پھرتے نظر آئے
عجب شورش بپا دیکھی
میں سفری بیگ اپنا لے کے باہر نکلا
تو کیچڑ میں پاؤں دھنس گیا میرا
بہ دقت نکلا اس بدصورتی سے میں
ہجومِ ناشناساں سے کسی مانوس سی آواز نے مجھ کو صدا دی
تو میں جیسے کھل سا اُٹھا تھا
—–
بہاریں رشتۂ احساس کی پابند ہوتی ہیں
چمن اذہان کے موسم میں کھلتے ہیں
مری بیداریوں نے مجھ کو رکھا ہے بہاروں میں
وہ رستے کی بہاراں تھی
یہ میری زندگی کی ہے
سو اُس خطے سے اپنے گھر تلک میں نے
بہاروں کا سفر دیکھا
بہاروں کا سفر کہ اب بھی جاری ہے

Advertisements