یاد بھی کیسی وارداتی ہوئی
چھلنی چھلنی ہماری چھاتی ہوئی

زیست چاہتی ہے کوئی شکل کہن
ہر نئے چاک پر چڑھاتی ہوئی

یہ دھڑکنے لگا ہے سب کے لئے
دل کی جاگیر شاملاتی ہوئی

مجھ کو پہروں رُلایا کرتی ہے
ایک تصویر مسکراتی ہوئی

مدتوں بعد میں ملا خود سے
اک ملاقات تعزیاتی ہوئی

ناشناسا یہی نگاہ تھی کیا؟
ساتھ جو دور تک ہے آتی ہوئی

دیکھتا ہوں کہاں سے آتا ہوا
کیا خبر وہ کہاں ہے جاتی ہوئی

اب سبھی پر سوار ہوں میں ظفر
یوں تو ہر موج تھی ڈراتی ہوئی

Advertisements