ہوس تو سب کی نگاہوں میں جھلملاتی ہے
خوشی ہمیں سے بدن کیوں سدا چراتی ہے

زمانہ رہتا ہے اِک شورشِ دُخان میں گم
تری صدا ہے جو مجھ میں دئے جلاتی ہے

یہ چاند سب کی چھتوں پر اُترتا ہے شائد
نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے، میرا ذاتی ہے

کہاں بقائے محبت کے جام اور کہاں میں
مجھے یقیں ہے ، مرا کیس نفسیاتی ہے

چھپا ہوا ہوں کسی یاد کے دھندلکے میں
مری تلاش میں دنیا کی بے ثباتی ہے

تو کیا میں پھر سے فریبِ امید میں آ جاؤں
یہ شام پھر میرے خوابوں کو گدگداتی ہے

وہ کائنات مرے حجرۂ بدن میں بھی ہو
جو میری فکر کو لے لے کے اُڑتی جاتی ہے

Advertisements