رہگزاروں میں ہمیں ٹکنے نہیں دیتا ہے اپنے اپنے گھر کا اشتیاق
گھر میں ہوں تو کھینچتا ہے میرے قدموں کو کسی اندھے سفر کا اشتیاق

زندگی بھر جن کو توفیقِ شجر کاری نہیں ہو پائی ہے، اُن کو بھی ہے
دھوپ کا مقتل بنی راہوں میں سستانے کو چھاؤں کے ثمر کا اشتیاق

کیا خبر کہ فصلِ گل نے ڈیرے ڈالے ہیں سرِ راہے بھلا کس کے لئے
دید کے قابل ہے منظر کے گلے لگتا، نگاہِ بے خبر کا اشتیاق

روشنی کے واسطے جلنا نہیں آیا تو سب دیوانگی کارِ عبث
یہ بجا کہ خواب زادوں کو رہا ہے رات بھر یوں تو سحر کا اشتیاق

کیا کہوں کیسے اُجڑتے جا رہے ہیں دوستو اندر ہی اندر سے سبھی
شہر کے لوگوں میں بڑھتا جا رہا ہے جس قدر دیوار و در کا اشتیاق

جانے کس اظہار کے جذبے کی حدت سے لہو کا لاوا ہے کھولا ہوا
جانے کس حسرت میں رخساروں سے ڈھلکے جا رہا ہے چشمِ تر کا اشتیاق

اپنے ابلاغِ خموشی پر مرا تو اس قدر ایمان مستحکم ہوا
بولنے دیتا نہیں مجھ کو تمھارے سامنے عرضِ ہنر کا اشیتاق

شوق کے پر کاٹتے آئے نہیں ہیں زندگی کے منتظم کو آج تک
ہم کہ جس رنگ میں بھی رنگے جائیں، رہتا ہے کسی رنگِ دگر کا اشتیاق

اب تو ساحل کی طرف جانے نہیں دیتی کسی صورت بھی ہم کو، کیا کریں
ہم کو تو لگتا ہے کہ جیسے ہماری کشتی کو ہے خود بھنور کا اشتیاق

Advertisements