ہم تم بنامِ عقد سزاؤں پہ متفق
سب لوگ اپنی اپنی بلاؤں پہ متفق

مہماں ولیمے میں ہیں سلامی کے بھاؤ پر
توندوں میں ہفتے بھر کی غذاؤں پہ متفق

ہم لا رہے تھے بزم میں نظاق و مطربہ
تم ہو گئے ہو خواجہ سراؤں پہ متفق

بلیوں سے اُن کے ٹھہرے مفادات مشترک
کتے بھی ہو چلے ہیں ’’میاؤں‘‘ پہ متفق

اب ٹام و سام اپنے مقدر کے ساتھ ہیں
بہرِ غلامی سب ہیں چچاؤں پہ متفق

بابو ہیں مک مکا کی سہولت لئے ہوئے
اور سائلین عقدہ کشاؤں پہ متفق

کتنا ہے احترامِ ہوسِ نظر اِنہیں
سارے ہی بُت ہیں تنگ قباؤں پہ متفق

یہ کیسا ٹین باندھا گیا روزگار کا
شہروں سے مطنئن ہیں نہ گاؤں پہ متفق

اپنی تو موجِ مئے پہ چڑھاتے ہیں ناک بھوں
مغرب سے اُٹھنے والی گھٹاؤں پہ متفق

لڑتے ہیں جو زمین کے ایک ایک انچ پر
کل ہوں گے شاملات خلاؤں پہ متفق

اہلِ سخن تو چمنی کی صورت ہیں دوستو
سب ہیں غزل کی شوخ اداؤں پہ متفق

Advertisements