چمن زارِ ایمان میرا وطن ہے
بہاروں کی مسکان میرا وطن ہے

جہاں میں کوئی اِس سا دیکھا نہیں ہے
نمایاں در اوطان میرا وطن ہے

یہ تھر یہ زیارت، دلوں کی ریاست
یہ پنڈی یہ مردان میرا وطن ہے

یہ گہوارہ ہے امن کا آشتی کا
محبت کا اعلان میرا وطن ہے

مرے حوصلوں کو دئے پر اسی نے
ترقی کا میدان میرا وطن ہے

زمانوں کی ظلمت نگلنے نہ پائے
سدا ایک امکان میرا وطن ہے

ہر اک کہکشاں اس کا جادہ بنی ہے
حقیقت کا عرفان میرا وطن ہے

فقط اپنے رقبے میں محدود کب ہے
ہر اک دل کا دالان میرا وطن ہے

وفاؤں کی حدت لہو میں گھلی ہے
ہمیشہ کا رومان میرا وطن ہے

نئے دور کا معجزہ اس کو کہئیے
مرے رب کا احسان میرا وطن ہے

جہاں جاؤں اس کا حوالہ بنوں میں
ظفرؔ میری پہچان میرا وطن ہے

Advertisements