حسرتِ سایہ میں جنگل کو تکے جاتا ہوں
دھوپ ہے اورمیں آنچل کو تکے جاتا ہوں

ایسی شکنیں میرے ایقان میں کب آئیں گی
تیری پیشانی کے گنجل کو تکے جاتا ہوں

دور جاتی ہوتی گاڑی کا دھواں ہے اور میں
سرخ ہوتے ہوئے سگنل کو تکے جاتا ہوں

اپنے پہلو میں چبھی جاتی ہیں پتھر کی سلیں
اور ترے پہلو کے مخمل کو تکے جاتا ہوں

جب کسی ریت کی صورت ہے مری مٹھی میں
کیوں گزرتے ہوئے ہر پل کو تکے جاتا ہوں

یہ زمانہ بھی یونہی دیکھتا ہو گا مجھ کو
جس طرح میں کسی پاگل کو تکے جاتا ہوں

رونقِ شہر کا اِک میں ہی تماشائی ہوں
اپنے اطراف کے دلدل کو تکے جاتا ہوں

پھر مقدر میں لکھی ہے کوئی نا اُمیدی
پھر کسی آس میں گوگل کو تکے جاتا ہوں

بھری برسات کی بوچھاڑ ہے اور میں پیاسا
اِس چھلکتی ہوئی چھاگل کو تکے جاتا ہوں

Advertisements