تو مرے سانول سا ہے
عقل سے پیدل سا ہے

کس قدر اسمارٹ ہے
ہوبہو بوتل سا ہے

جانور ہے یار بھی
اک ذرا سوشل سا ہے

تو اگر ہے سرپھرا
اگلا بھی پاگل سا ہے

منہ چڑاتا ہے مرا
آئینہ چنچل سا ہے

ناک بہتی ہے تری
اور سخن چرچل سا ہے

جب تلاشِ حسن ہو
دیدہء گوگل سا ہے

کیسے بچ پائے کوئی
حسن تو چنگل سا ہے

کچھ ہدایت نہ ملی
آج بھی وہ کل سا ہے

اب بھی شامت ہے وہی
بدھ بھی کچھ منگل سا ہے

تربیت فارن کی ہے
جاب میں لوکل سا ہے

پھنس گئی مکھی کوئی
میک اپ دلدل سا ہے

اِس دوا کا ذائقہ
زوجۂ اول سا ہے

ازدواجیقصہ بھی
ٹاک شو دنگل سا ہے

اب تو ہر لیڈر ظفر
سربسر کھٹمل سا ہے

Advertisements