تجھ سے ملنے کو آیا تھا میں
پر دکھائی دیا ہی نہیں
ایسی گردھند تھی ہر طرف
کچھ سجھائی دیا ہی نہیں

اب تو زیرو ہے حدِ نظر
تاکنا جھانکنا ہے عبث
چھوڑئیے ذعمِ دیدہ وری
خود کو بھی دیکھنا ہے عبث

دیکھ لو! ہر سڑک بن گئی
غافلوں کے لئے سیخ بھی
چرچراہٹ بریکوں کی ہے
اور گونجی ہے اک چیخ بھی

کس کی گردن ہے کس کی چھری
تجھ کو تھوڑا سا اندازہ ہے؟
علتیں ہیں بھرے پیٹوں کی
اور غریبوں پہ خمیازہ ہے

مجھ سے کیا پوچھتی ہے ارے!
دین کس کی ہے گردھند بھی
تیرے آباء کے کھلیان ہیں
تیرے ابے کی ہے فیکٹری

یہی مخزن خرابی کے ہیں
قہر میں زندگی جن سے ہے
زہر سارا ہے اِن کا دیا
ساری آلودگی اِن سے ہے

مقتدر لمبی تانے ہیں کیوں؟
ذمہ داری اُٹھائے کوئی
کوئی تو کھینچے حدِ جنوں!
ان سے بھی جا کے پوچھے کوئی

Advertisements