تو جھوٹے زمانے کا امیں ہے کہ نہیں ہے
جیسے ہیں سبھی ویسا لعیں ہے کہ نہیں ہے

بولے جو خواتین سے تو شہد بہادے
ہم تم سے کوئی خندہ جبیں ہے کہ نہیں ہے

چہرے سے تو لگتا ہے گزارے کے وہ لائق
ہر نخرہ مگر عرش نشیں ہے کہ نہیں ہے

گھوڑی ہے جو بوڑھی تو ہوکیوں سرخ لگامی
لیکن تیری بڑبھس بھی چنیں ہے کہ نہیں ہے

آیا جو کبھی شامتِ اعمال کی زد میں
بتلانا کوئی تیرے قریں ہے کہ نہیں ہے

آخر کو وہی ہڈی بنا تیرے گلے کی
کہتے تھے جسے ”کچھ بھی نہیں“،ہے کہ نہیں ہے

اچھا نہیں ایڑھی کو بہت اونچا اُٹھانا
کھسکی ہوئی قدموں کی زمیں ہے کہ نہیں ہے

آلینے دو بھتنی کو ذرا بیوٹی کلینک
پھر پوچھوں گا وہ تم سے حسیں ہے کہ نہیں ہے

ہر چند کہ ٹھینگے پہ ہی رکھا گیا اب تک
درخواست مری تم سے سوویں ہے کہ نہیں ہے؟

کہلاتا ہے لیڈر تو بہت خادمِ ملت
ملت ہی مگر ”کمی کمیں“ ہے کہ نہیں ہے

کیوں عشق کی شہ پا کے خدا بنتا ہے ہر بُت
وہ دشمنِ جاں، دشمنِ دیں ہے کہ نہیں ہے؟

Advertisements