معرکہء حیات ہے درپیش
دمبدم کوئی گھات ہے درپیش

میرے آنسو تو خشک ہو بھی چکے
اب غمِ شاملات ہے درپیش

سانس کی آنچ آ رہی تھی مگر
دوریء شش جہات ہے درپیش

بجھتنے دیتا نہیں ہے یہ احساس
ہر نفی کو ثبات ہے درپیش

ساری دنیا سے میں نمٹ لوں گا
پر جو یہ اپنی ذات ہے درپیش

چاند اس ڈر سے کیا نہیں نکلے
اس کو اک لمبی رات ہے درپیش

خود کو پانے کا مرحلہ ہے یہی
وسعتِ کائنات ہے درپیش

اعتبار اب کسی قدم کا نہیں
عالمِ ممکنات ہے درپیش

مضمحل ہو گیا سرورِ فتح
اپنے دشمن کی مات ہے درپیش

Advertisements