اے وطن تیرے فلک کے سب ستاروں کو سلام
جو ظفرمندوں میں ہیں اُن جان ہاروں کو سلام

قوم کے کل کے لئے سب آج اپنا تج گئے
جل بجھے جو دھوپ میں اُن سایہ داروں کو سلام

راہِ سنگ و خشت کو جانا ہے مثلِ کہکشاں
دم بہ دم بڑھتی ہوئی روشن قطاروں کو سلام

جن کی دہشت ہے عدو پر، اُن کی ہمت کو خراج
جن کا ڈنکا جگ میں ہے،اُن نامداروں کو سلام

نعرہء تکبیر کی آواز پر لرزاں عدو
جذبہء شوقِ شہادت کی بہاروں کو سلام

ان کے آگے ہیبتِ طوفان مشتِ خاک ہے
عزمِ عالیشان کے اِن کوہساروں کو سلام

وارثانِ سرفروشیٗ حسین ابنِ علی
دشمنوں پر کوندتی اِن ذوالفقاروں کو سلام

وہ زمیں ہو، آسماں ہو، خشک ہو یا ترمقام
ہر محاذِ جنگ کے ان جانثاروں کو سلام

یہ اکیلے ہیں،کہاں اِک قوم ان کے ساتھ ہے
عالمِ اسلام کے ان تاجداروں کو سلام

یہ زمامِ وقت کو رکھتے ہیں ہاتھوں میں ظفرؔ
اِن حیاتِ جاوداں کے شہسواروں کو سلام

Advertisements