پت جھڑ کی رُتوں میں بھی مرے دل کو ہرا دیکھ
اُمید کو ہر شاخِ تمنا پہ کھلا دیکھ

ہریالی کا وجدان نکال اپنی زمیں سے
یہ کس نے کہا بہرِ نمو کوئی گھٹا دیکھ

توفیق ہو جینے کی تو جی لیتے ہیں یوں بھی
ویران سرائے کا کوئی تنہا دیا دیکھ

اُن کے وہی تیور، وہی زہراب نوائی
دل کا وہی اصرار کہ ناموسِ وفا دیکھ

ہر شے کی حقیقت کو سمجھنا ہے ضروری
جو تجھ کو نظر آتا ہے تو اُس سے سوا دیکھ

آفاق کی وسعت کو سمجھ، حجرے بنا مت!
منظر کے جھروکوں سے کوئی اور فضا دیکھ

مسنون ہے صدیوں کے خلا پر بھی تفکر
لیکن جو تری ذات میں ہے وہ بھی خلا دیکھ

بے رنگ زمانے میں دھنک جاگ اُٹھی ہے
بے نام خموشی میں مرا رنگِ صدا دیکھ