اگر ہے جورو مریضِ جفا تو یونہی سہی
اک اور عقد ہے اِس کی دوا تو یونہی سہی

اُسے دولتی جمانا تو ہے ڈیو مجھ پر
سمجھ رہا ہے وہ مجھ کو گدھا تو یونہی سہی

اگرچہ پکڑے گئے مک مکا کے چکر میں
علاج اس کا بھی ہے مک مکا تو یونہی سہی

وہ اپنے مال کوسائے سمیت تولتا ہے
یہ بے ایمانی ہے اُس کو روا تو یونہی سہی

وہ عقد کر کے تری زندگی سے چمٹی ہے
نہیں ہے کلمۂ ردِ بلا تو یونہی سہی

محبتیں تو ہمیشہ سے اندھی ہوتی ہیں
کسی کا چاند ہے’’ اُلٹا توا‘‘ تو یونہی سہی

سوال کرتا ہے جب بھی مفاد ہو اپنا
گو مستقل ہے وہ مجھ سے خفا تو یونہی سہی

لطیفے میں بھی سنائوں گا حالِ دل کی جگہ
وہ میری بات کو سُن کر ہنسا تو یونہی سہی

تو جیسے گھڑتا ہے پنسل تراش سے پنسل
یہ شعر ہم نے بھی یونہی گھڑا تو یونہی سہی

Advertisements