"بھونڈی” نہ کہئیے قلب و نظر کے مماس کو
اوباش نہ پکارئیے اس اپنے داس کو

شیطانیت میں لیڈرِ قومی سا ہے کہاں
ابلیس خاک پہنچے گا اس کی کلاس کو

ہوتے نہیں ہیں غیر کی پھبتی پہ وہ خجل
چکھتے رہے ہیں میرے سخن کی کھٹاس کو

بس ایک پل کے واسطے آیا تھا بزم میں
ظالم بھگا کے لے گیا ہوش و حواس کو

دنیا کی ہر معاشرت میں ہے تباہ کن
طوفان جانتے ہیں سبھی اپنی ساس کو

زور آوروں کے سامنے گویا ہیں سرخرو
کمزور پر اُتار کے دل کی بھڑاس کو

انسان سے زیادہ گدھے کا نیاز مند
دیکھا گیا ہے بندہء مردم شناس کو

چھوٹا نہ ہم سے میکدہ توبہ کے بعد بھی
بھرتے ہیں لیموں جوس سے ساقی گلاس کو

کی تھی ظفر علاجِ غمِ دل کی استدعا
اور ڈھونڈنے لگے ہیں وہ چھینی پلاس کو

Advertisements