صبر کا تڑکا لگا کر سوکھی پھوکی گھاس کو
دیں گرانی میں گدھوں کو (ہم عوام الناس کو)

بیف کے ہوں یا مٹن کے نرخ ،پکڑائی نہ دیں
سچ کہیں تو دیکھتے ہیں عید پر ہی ماس کو

لاد کر کچھ اور قرضے ہم گدھوں پر چل دئے
خاک پورا کرتے لیڈر ارتقاء کی آس کو

ہو چکا کب کا اڑن چھو ہم سے اسپِ ارتقاء
اور ہم تھامے کھڑے ہیں اب بھی اُس کی راس کو

ٹھینگا دکھلاتا ہے لیکن حُسن بتلاتا نہیں
کیا کریں دل والے آخر عشق کے خناس کو

اُس کی لیلیٰ تو ’’ڈیفینس سوسائٹی ‘‘میں جا بسی
حضرتِ مجنوں چلے کس کے لئے بن باس کو

لازمی ہے دم ہلانے کے لئے سسرال میں
پوری تیاری سے ٓجائیں کوچۂ حساس کو

اختلافِ رائے کے کچھ اور بھی پیرائے ہیں
نامناسب ہے دولتی جھاڑنا یوں داس کو

شربتِ دیدار ہے درکارمجھ کو مئے نہیں
دنیا والوں نے غلط سمجھا ہے میری پیاس کو

تاڑتے ہیں کس لئے نوخیز کلیوں کو ظفرؔ
عمر دیکھیں ،جا لگے ہیں آپ ہم انچاس کو

Advertisements