نیوز چینل کم نہیں، بکواس کو
چھوڑئے بھی خامہ و قرطاس کو

کمپیوٹر وائرس جیسا ہے ڈھیٹ
کیسے روکیں عشق کے خناس کو

کر گئے ہیں ارتقاء اہلِ وطن
’’قومی کھانا‘‘ جانتے ہیں گھاس کو

جائے گی کس ڈھول کی آواز سے
نیند آ جائے اگر احساس کو

’’گوری‘‘ کا نمبر ملایا تھا مگر
کال نے جا پکڑا ’’کالی داس‘‘ کو

ایک سی شامت ہے ہر انداز سے
بھڑ کو ہم چھیڑیں یا اپنی ساس کو

اُس کے وافر عاشقوں کو دیکھ کر
دردِ دل والے چلے ہیں ٹاس کو

لگتے ہیں ہنستے ہوئے بجو ہمیں
کہہ نہیں سکتے مگرہم باس کو

لے رہے تھے حظ لطیفوں کاظفرؔ
کر دیا برخواست کیوں اجلاس کو

Advertisements