لیڈر حماقتوں پہ تُلا کچھ نہ کچھ تو ہے
کہتے نہیں ہیں یونہی گدھا کچھ نہ کچھ تو ہے

بیگم کا موڈ یونہی نہیں "نون لیگ” سا
خوابیدگی میں ہم نے کہا کچھ نہ کچھ تو ہے

اقدار کا علاج کیا ہے یوں عصر نے
ہر ناروا بھی اب کے روا کچھ نہ کچھ تو ہے

تم نے تو سرخیوں پر ہی منہ کو سُجا لیا
زیرِ متن مزید لکھا کچھ نہ کچھ تو ہے

یہ بھی غلط نہیں کہ کبھی لفٹ نہ ملی
یہ بھی ہے سچ کہ فدوی ترا کچھ نہ کچھ تو ہے

وہ آم ہے یا چوسی ہوئی گھٹلی آم کی
دامن میں میرے آ کے گرا کچھ نہ کچھ تو ہے

یوں تو ڈٹا ہے فدوی سپرمین کی طرح
بھونکوں سے دل میں دھلا ہوا کچھ نہ کچھ تو ہے

وہ کامیابِ عشق نہ اِترائے بے وجہ
یہ جو ہے عقد یہ بھی سزا کچھ نہ کچھ تو ہے

اہلِ کمال کچھ نہیں اُن کی جناب میں
جن کی نظر میں تھوتھا چنا کچھ نہ کچھ تو ہے

گندے سہی ٹمااٹر تو پھینکے ہیں یار نے
شاعر کو بہرِ داد دیا کچھ نہ کچھ تو ہے

Advertisements