کینچلی سچ کی میں اب مار لوں، کیا کہتے ہو
مول ہر شخص سے تکرار لوں، کیا کہتے ہو

مرگِ احساس کا ماتم نہیں ہوتا مجھ سے
رینٹ پر کوئی عزادار لوں؟ کیا کہتے ہو

حق سمجھتے ہیں اسے آج کے لکھنے والے
قیمتِ دیدۂ بیدار لوں کیا کہتے ہو

آج کل اِس پہ پکوڑے ہی دھرے جاتے ہیں
کس لئے پڑھنے کو اخبار لوں، کیا کہتے ہو

ایک بیوی سے تو ایماں میرا خطرے میں ہے
مردِ مومن بنوں اور چار لوں، کیا کہتے ہو

دیس میں تو میری قسمت نہیں کھلنے والی
چوکڑی جا کے کہیں پار لوں، کیا کہتے ہو

صرف دفترہی نہیں بیوی کی بیگار بھی ہے
اس سے بھی رخصتِ اتوارلوں، کیا کہتے ہو؟

حق ادا ہوتا نہیں ایسے گلوکاری کا
کسی کوّے سے بھی منقار لوں، کیا کہتے ہو؟

تیرے کھونٹے کا سہارا ہو تو بچھڑا کودے
ساری دنیا کو میں للکارلوں، کیا کہتے ہو؟

کیا خریدوں میں بھلا سالگرہ کا تحفہ
خان جی کے لئے نسوار لوں کیا کہتے ہو

بال بھی کھچڑی ہیں داڑھی بھی ہے بے ترتیبی
پیر کا روپ نہ میں دھار لوں کیا کہتے ہو

آج تک میں نے بھی بے فیض ہی سچ بولا ہے
اب ذرا خلعتِ سرکار لوں، کیا کہتے ہو

جن کے اک جرعہء نظارہ کو ترسا ہوں میں
اُن سے اب شربتِ دیدار لوں کیا کہتے ہو

اپنی زوجہ کا بہرحال دلارا ہوں میں
ساتھ پنکی کا بھی میں پیار لوں، کیا کہتے ہو؟

مستند ہو گی یونہی شاعری اگلی پچھلی
کیوں نہ تنقید میں منہ مار لوں، کیا کہتے ہو؟

Advertisements