ذکرِ شبانہ ، روز و شبانہ، کیا کہتے ہو
کر دے نہ اک روز دیوانہ، کیا کہتے ہو

خالص اُردو میں جب پورا فقرہ بولا
بول اُٹھا ہے ہر فرزانہ "کیا کہتے ہو”

اُس کے جلوے کے حلوے پر رال کیوں ٹپکے
مہر شدہ ہے دانہ دانہ ، کیا کہتے ہو

موقع مل جائے تو ٹلتے کم کم دیکھا
ویسے بنتے ہیں مولانا، کیا کہتے ہو

وصل تو جیسے اور کہیں پر ناممکن ہو
یاد آ جائے روز کبانہ، کیا کہتے ہو

یہ ریٹائرڈ عاشق ہی بتلا سکتے ہیں
شادی تو ہے اک ہرجانہ، کیا کہتے ہو

پھر سے اُس کے گھر میں شور کی آوازیں ہیں
جھگڑا ہو گا یا دو گانا، کیا کہتے ہو

وہ نیناں منہ بولے بھائی ہیں ساقی کے
پھرلوں قسمت کا پیمانہ؟ کیا کہتے ہو؟؟

دل میں جاری رہے ہمیشہ آنا جانا
بن ویزے کے، آزادانہ ، کیا کہتے ہو

کبھی کبھی کوئی ایسی حرکت کر دیتے ہو
قبلہ لگتا ہے ننکانہ، کیا کہتے ہو

موجِ غزل میں کب سے میں اشعار کی صورت
بانٹ رہا ہوں کھنڈ مکھانہ، کیا کہتے ہو

Advertisements