آنکھیں بہر کوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم
دل ہےاک سادھوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

ایماں کی ہر فصلِ بہاراں، ایک اُنہیں کی منتِ احساں
عالم عالم بوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جن نظروں نے دیکھا اُن کو، پایا نور کا چشمہ اُن کو
روشن ہر پہلوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کی دعاؤں کا اِک محور، امت امت اور بس امت
اِس کے لئے آنسوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کا نور مسلح کر دے، تو ٹکراؤں ہر ظلمت سے
بن جاؤں جگنوئے محمد صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کی محبت سب کے لئے ہے، لطف و عنائت سب کے لئے ہے
سب کی خاطر جوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جو راہوں میں خار بچھاتے اُن پر بھی شفقت فرماتے
اللہ اللہ خوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

شعر و سخن کا سارا ورثہ، صدقہ ہے حسان کے در کا
ایک سفر ہے سوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جب بھی نعت میں لکھنے بیٹھوں تو لگتا ہے ظفرؔ مجھے یوں
جیسے ہوں میں روئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

Advertisements