مجھ کو خوش آئے نہ ایسی روشنی پروردگار
جس سے چندھیائی ہوئی ہو آگہی پروردگار

تیرے رستے پر اگر چلنا نہیں آیا مجھے
پھر بھلا کس کام کی دیدہ وری پروردگار

کہکشائوں کائناتوں کی حقیقت کچھ نہیں
ایک تیری ذات نقشِ سرمدی پروردگار

سر تو پانچوں وقت جھکتا ہے نمازوں میں مگر
کاش پانچوں وقت ہی ہو حاضری پروردگار

عمر کے نقشے میں تیرے رنگ ہی بھرتا رہوں
بخش دے اِتنا شعورِ زندگی پروردگار

جیسی بندہ پروری تجھ میں ہے بندوں کے لئے
کاش ہو ہم میں بھی ویسی بندگی پروردگار

رابطہ جن سے نہیں ہوتا ہے تیرا استوار
اُن کی خود سے بھی نہیں ہے دوستی پروردگار

جو دعائیں مانگتا آیا ہوں سُن لی ہیں سبھی
اور وہ بھی جو رہی ہیں ان کہی پروردگار

میرے لفظوں پر رہے بس لاالہٰ کا نشہ
زائرِ کعبہ ہو میری شاعری پروردگار

Advertisements