میری خاموشی کیا بنی آواز
گونجتی ہے گلی گلی آواز

خود سے سر پھوڑتی پھرے ناحق
اپنے گنبد میں گونجتی آواز

ایک زنجیر سے بندھے ہیں ہم
میری آواز ہے تری آواز

شہر بھر کی صدا بنی کیسے
میرے اندر دبی دبی آواز

چپ کا اک سلسلہ ہے میرے بعد
میری آواز آخری آواز

اُس نے آواز مجھ کو دی ہوتی
میرا رستہ بھی روکتی آواز

چپ کے روغن میں ڈوب ڈوب گئی
در ودیوار میں بسی آواز

کوئی اس کو سنے سنے نہ سنے
میرے جذبوں کی خود سری آواز

ہائے کس نے مجھے پکارا تھا
چاروں جانب سے آئی تھی آواز

خامشی کا طلسم تو ٹوٹا
ہے غنیمت ڈری ہوئی آواز

Advertisements