یوں بننے کو سبھی بنتے ہیں فدوی کے دمساز
کسی کو بھی نہیں توفیقِ دعوتِ شیراز

کتاب سازی نے بخشی ہے کیا بلند پرواز
دکھائی دیتی ہے ’’شہناز ‘‘ان دنوں’’ شہباز‘‘

مرا ہی دل ہے کہ جو خوگرِ سلیکشن ہے
وطن میں ہر سو الیکشن کا ہوچکا آغاز

تغیرات کی زد میں ہے کون، کس کو خبر
جداہیں نخرے ترے یاالگ مرے انداز

مجھے وہ ’’جان‘‘ تو کہتے ہیں فرطِ الفت سے
مگر کچھ اور ہی کہتا ہے دیدۂ غماز

تو لے اُٹھائے تو پائے جواب رینکوں میں
ملی ہے تجھ کو بھی کیا خوب ’’خر پسند‘‘ آواز

وہ کیا کریں کہ یہی رشتے کا تقاضہ ہے
کسی کو بخشا نہیں کرتے ہیں کبھی اِن لاز

دھنائی کی ہے تو خوباں کے ویروں نے کی ہے
سمجھنے لگتے ہیں عشاق اس کو بھی اعزاز

خبر کرو ایوی ایشن اتھارٹی کو ظفرؔ
پڑے ہوئے ہیں گلی کوچوں میں بہت سے جہاز

Advertisements