گن افسروں کے شوق سے گا لو مرے عزیز
دُم کو بھی گاہے گاہے ہلا لو مرے عزیز

درکار کس لئے ہے ائر ویز کا ٹکٹ
خود کو ہی تم جہاز بنالو مرے عزیز

لو پھر مرا وجود نشانے پہ آ گیا
ارمان اپنے دل کے نکا لو مرے عزیز

پسلی کہاں ہے تم میں بھلا جذبِ عشق کی
بھولے سے بھی یہ طوطا نہ پا لو مرے عزیز

کرنے لگا ہے قتل تمھارے بھلے کو وہ
چپ چاپ اپنے سر کو جھکا لو مرے عزیز

یہ بیکلیٔٔ ہجر ہے یا کیڑے پیٹ کے
بہتر ہے ڈاکٹر سے دوا لو مرے عزیز

مونچھیں ہیں گھر کی کھیتی، بہت منہ لگاؤ مت
چاہے بڑھا لو ،چاہے گھٹا لو مرے عزیز

اِس باب میں معاون ہیں حالاتِ حاضرہ
جگتیں طرح طرح کی لگا لو مرے عزیز

اب دیکھ لو کہ باجے ہے کتنا گھنا ظفرؔ
کس نے کہا تھا تھوتھا چنا لو مرے عزیز

Advertisements