کرتا ہے آئینے کی صداقت سے ہی گریز
کردے نہ وقت تیری حقیقت سے ہی گریز

بس میں نہیں کہ صورتِ حالات سے بچیں
بس میں نہ تھا کہ کرتے بغاوت سے ہی گریز

ترکِ وفا ہی ہجر کی تلخی کا ہے علاج
لیکن مجھے ہے ایسی سہولت سے ہی گریز

دستِ دھنک کی کیسی حراست میں آئے ہیں
کب سے ہے آپ اپنی ضمانت سے ہی گریز

دنیا نے ہائے، کیسا متنفر کیا اُسے
کرنے لگا ہے میری محبت سے ہی گریز

گمراہ کیوں کرے کوئی خوشبو بھی آن کر
جب ہے مرے یقیں کو بشارت سے ہی گریز

رستہ نہ کھوٹا کر دے کہیں رونقِ جہاں
اس واسطے ضروری ہے حیرت سے ہی گریز

پایاب پانیوں کے مسافر بنے ہیں ہم
اذہان کو ہے فکر کی ندرت سے ہی گریز

جا کر بھی میرے دل سے نہیں جائیں گے ظفرؔ
اب تو مہاجروں کوہے ہجرت سے ہی گریز

Advertisements