کم مائیگی کا یونہی نہ صدمہ اُٹھائیے
قرضہ چکانے کے لئے قرضہ اُٹھائیے

اوروں کو تو تصیحتیں کرتے ہیں خوامخواہ
کچھ آپ بھی زحمتِ توبہ اُٹھائیے

شیطان کہہ رہا ہے کہ رمضاں گزر گیا
’’اب ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے‘‘

جاری رہیں گے آپ کے خراٹے کب تلک
جس تکئے پر ہے آپ کا تکیہ، اٹھائیے

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھیں جہان کو
بن کے تماشہ، لطفِ تماشہ اُٹھائیے

لکھنا نہیں تو ناڑا پاجامے میں ہی سہی
کس کام کا ہے آپ کا خامہ، اُٹھائیے

ہم کو دکھائیے نہ یونہی موڈ بے وجہ
گھر پر ہے نخرے والی تو نخرہ اُٹھائیے

جیسے اُٹھا وزارتِ عظمیٰ سے اک شریف
در سے نہ ہم کو اس طرح قبلہ اُٹھائیے

ہی آر ہے تو جانئیے شاعر عظیم ہے
مردہ اُٹھانے کی طرح مصرعہ اُٹھائیے

Advertisements