تجھ پہ مرنے کا ارادہ تو نہیں
اس حماقت کا اعادہ تو نہیں

سیدھے رستے پر چلوں میں کس طرح
یہ کسی منزل کا جادہ تو نہیں

میری باتوں پر یقیں کیونکر نہیں
یہ کسی لیڈر کا وعدہ تو نہیں

کس طرح چٹا ہو میرا کاں بھلا
میں سیاسی خانوادہ تو نہیں

ایک ہی سوراخ سے ڈسوائے گا
اب کوئی اِتنا بھی سادہ تو نہیں

صورتِ شلوار پہنوں گا میں پینٹ
میرے پرکھوں کا لبادہ تو نہیں

کھائیے نانِ جویں بھی دیکھ کر
اس میں مٹی کا برادہ تو نہیں

لے اُڑی ہے جس کو کلمونہی کوئی
اب وہ ماسی تیرا شادا تو نہیں

اب تو مکھن ہے لگانے کے لئے
نوش کرنے میں افادہ تو نہیں

یہ ظفر زادہ ہے یا خود ہے ظفر
ہجر میں گھل گھل کے آدھا تو نہیں

Advertisements