لے کے چلے تھے رند کہاں سے شامِ وعدہ
جس میخانے میں پیمانہ ہے نہ بادہ

اُس کا ملنا ناممکن ہے جانتا ہوں میں
باندھ لیا ہے پھر بھی اک ناکام ارادہ

تیرے کوچے نے گنجلا رکھا ہے کب سے
اپنے آپ سے ملنے کا ہر ایک ارادہ

تیری یادیں میرا جیون چاٹ رہی ہیں
جیسے برف نے پہنا ہو شعلوں کا لبادہ

اب بھی پرانے شہر کے رہنے والے اکثر
تنگ مکانوں میں رہتے ہیں، دل ہے کشادہ

ہر رستے نے دلدل کا بہروپ بھرا ہے
پھر بھی میں ہر نئی مسافت کا دلدادہ

دنیا پر ہی ڈالتے ہیں تنقیدی نظریں
کس نے دیکھا بہرِ دنیا اپنا افادہ

ظلمت نے طوفان اُٹھا رکھا ہے اس پر
یہ ننھی سی شمع کیوں ہے دور افتادہ

میں اپنے دیوان کو دیکھ کے ہنس دیتا ہوں
لوگ پڑھیں گے لے کر یہ اوراقِ سادہ

Advertisements