جب ایسی گرانی ہو تو کس طور گزارا
ہم جیسے غریبوں کا تو no more گزارا

اب سینگ کہیں اپنے سما پائیں تو جائیں
پنڈی میں چلے گاڑی نہ لاہور گزارا

گھسنے کی اجازت کہاں دیتا تھا ستمگر
سو نینوں کی کھڑکی سے دلِ چور گزارا

سنتا رہا بھاشن تیرے ابے سے میں گھنٹوں
اک دن تیرے کوچے میں بہت بور گزارا

کچھ ایسے مباحث بھی شبِ وصل رہے ہیں
جو وقت گزارا ہے بصد غور گزارا

جیون ہے یا بیگم ہے، نباہے نہیں نبھتی
کرنا ہے مگر تا بہ لبِ گور گزارا

سالے ہیں کہ ہر گام پہ دیتے ہیں اڑنگی
ہونا نہیں ایسوں سے مرا اور گزارا

اب کیسے ترے شہر کے لوگوں کو بتائیں
ہم بہرِ وصال آئے تھے یا ٹور گزارا

کیدو بھی تھا کھیڑے بھی تھے بیچارے کے درپے
رانجھے نے زمانہ بڑا پُر شور گزارا

Advertisements