ہم تھک چکے ہیں محفل میں آہ کرتے کرتے
اور اَک چکے ہیں اس پر سب واہ کرتے کرتے

وہ دنیا کی نظر میں بجو سے بن گئے ہیں
قول و عمل کو اپنے رُوباہ کرتے کرتے

ہم سے چھپی نہیں ہے اُن کی ستم ظریفی
پھر دے نہ دیں اڑنگی ہمراہ کرتے کرتے

ہم قرض کا تقاضہ کر کر کے تھک چکے ہیں
پر وہ تھکے نہ وعدہ ہر ماہ کرتے کرتے

کیا یاد آ گئے ہیں اپنے گزشتہ وعدے
کیوں چُپ سے ہو رہے ہیں واللہ کرتے کرتے

فریاد کرتے لیڈر سے پوچھئے تو آخر
کتنا گرے گا خود کو ذی جاہ کرتے کرتے؟

وہ اپنی شفقتوں میں تہ کر کے لے گئے ہیں
میری مشقتوں کو تنخواہ کرتے کرتے

ابلیس مبتلا ہے احساسِ کمتری میں
انسانِ عصرِ نو کو گمراہ کرتے کرتے

وہ دل ہے ایک پتھر، سر پھوڑنے سے حاصل
ہم راہ نہ بدل لیں اب راہ کرتے کرتے

جامِ وصال غیروں کے نام ہو گئے ہیں
چائے پہ رہ گئے ہیں ہم چاہ کرتے کرتے

یادیں پئے زیارت ہر رات آن دھمکیں
مرحوم الفتوں کو درگاہ کرتے کرتے

وہ واک کر رہی تھی اور تاڑتا تھا فدوی
اُس نے نظر اُٹھائی ناگاہ کرتے کرتے

اب نیوز چینلوں کا کچھ اور مشغلہ ہے
مرغے لڑا رہے ہیں آگاہ کرتے کرتے

Advertisements