عشق گو باعثِ رفاہ نہیں
اس سے بہتر کوئی گناہ نہیں

میں بھی سچا ہوں کس زمانے میں
آئینے بھی مرے گواہ نہیں

دوڑ منزل تلک ہے قدموں کی
اس سے آگے تو جیسے راہ نہیں

اپنے دامن کے داغ دیکھ سکوں
اس قدر حیطۂ نگاہ نہیں

خود سے اِتنا میں کیوں جھگڑتا ہوں
زندگی کوئی رزم گاہ نہیں

اب کھلا ہے یہ تیرے باغی پر
وہ تو اپنا بھی خیر خواہ نہیں

یہی ایمان ہے جواز مرا
میں کہیں پر بھی خواہ مخواہ نہیں

عرقِ انفعال چاہتی ہے
کوئی گیتی بھی بے گیاہ نہیں

وہ سدا گمرہی میں رہتے ہیں
جن کی محفل میں کج کلاہ نہیں

شب سے اپنی ہی جنگ ہے کوئی
چاندنی چاند کی سپاہ نہیں

خود کو دریافتکرنا باقی ہے
تیرے بارے میں اشتباہ نہیں

Advertisements